دو سال میں دولت اسلامیہ کے ’50 ہزار جنگجو ہلاک‘ ہوئے

دولت اسلامیہ تصویر کے کاپی رائٹ AP

ایک امریکی فوجی اہلکار کا کہنا ہے عراق اور شام میں امریکی اتحاد کی جانب سے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف شروع کی گئی جنگ میں کم از کم 50 ہزار شدت پسند ہلاک ہوچکے ہیں۔

سینیئر اہلکار کی جانب سے اس تعداد کو ایک 'محتاط اندازہ' قرار دیا ہے

دولت اسلامیہ کو اسلحہ کہاں سے ملتا ہے؟

دولت اسلامیہ کی کمر توڑ دی ہے: براک اوباما

مانو کو دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ علاقے سے بچا لیا گیا

سینیئر فوجی اہلکار کے مطابق یہ تعداد فضائی طاقت اور محدود تعداد میں امریکیوں کی مقامی فوجوں کی مدد کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔

تاہم دوسری جانب امریکہ کی جانب سے مسلسل یہ خبردار کیا گیا ہے کہ دولت اسلامیہ تیزی سے متبادل جنگجو حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جمعرات کو اہلکار کا کہنا تھا کہ امریکہ کی سربراہی میں قائم اتحاد کی جانب سے موصل جیسی جگہوں پر فضائی حملوں میں شدت لائی گئی تھی جہاں عراقی افواج شہر پر دوبارہ قبضہ حاصل کرنے کے لیے لڑ رہی ہیں تاہم انھیں شہریوں کی ہلاکتوں کے خطرے کے پیش نظر اسے روکنا پڑا۔

فوجی اہلکار کے مطابق 'اس کارروائی سے دولت اسلامیہ کو نقصان پہنچنا شروع ہو گیا تھا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption دولت اسلامیہ کو سنہ 2014 کے بعد سے کئی محاذوں پر شکست کا سامنا ہوا ہے

خیال رہے کہ امریکہ کی جانب سے مخالفین کی ہلاکتوں کی تعداد بتانے کے حوالے سے اکثر بد دلی کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔

اگست میں خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے لیفٹیننٹ جنرل شان میک فارلینڈ کے حوالے سے بتایا کہ تھا کہ اب تک 45000 مخال جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

واضح رہے کہ دولت اسلامیہ کو سنہ 2014 کے بعد سے کئی محاذوں پر شکست کا سامنا ہوا ہے اور اب اس کے خلاف روسی، ترک، عراقی، شامی اور کرد فوجوں کے علاوہ امریکی اور برطانوی فضائیہ بھی کارروائیوں میں شامل ہے۔

اب یہ موصل، رقہ اور سنی عرب قبائلیوں کے مرکز دریائے فرات کی وادی تک محدود ہوگئی ہے جو مشرق میں شام سے مغربی عراق تک پھیلی ہوئی ہے۔

اسی بارے میں