’صدر بننے پر اشرف غنی نے پاکستان سے دوستی کی کوشش کی تھی‘

تصویر کے کاپی رائٹ SAJJAD HUSSAIN
Image caption سابق وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ جس وقت اشرف غنی نے اقتدار سنبھالا اس وقت افغانستان میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کرنا ایک غیر مقبول اقدام تھا تاہم اشرف غنی نے اس کے باوجود ایسا کرنے کی کوشش کی۔

پاکستان کی سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر کا کہنا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی جب حکومت میں آئے تو انھوں نے بے حد کوشش کی کہ پاکستان کے قریب ہوسکیں تاہم پاکستان نے وہ موقع گنوا دیا۔

سابق وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ جس وقت اشرف غنی نے اقتدار سنبھالا اس وقت افغانستان میں پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی کوشش کرنا ایک غیر مقبول اقدام تھا تاہم اشرف غنی نے اس کے باوجود ایسا کرنے کی کوشش کی۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ ’میرا یہ ماننا ہے اور یقین ہے کہ جو موقع صدر اشرف غنی نے صدر بننے کے بعد پاکستان کو دیا، اس حکومت نے اسے کھو دیا۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ صدر اشرف غنی پاکستان کے کون سے مطالبات یا خواہشات ماننے پر تیار ہوئے تھے، حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ ’اشرف غنی وہ چیزیں کرنے پر راضی ہوئے تھے جو کہ پاکستان کی دیرینہ خواہشات تھیں۔ صدر غنی یہ مان گئے تھے کہ وہ انڈیا سے ہارڈوئیر نہیں خریدیں گے، افغان کیڈٹس کو پاکستان ملٹری اکیڈمی میں تربیت دینے پر تیار ہو گئے تھے اور اس کے علاوہ ٹرانزٹ کی فیس بھی کم کرنے پر تیار تھے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ 'میرا یہ ماننا ہے اور یقین ہے کہ جو موقع صدر اشرف غنی نے صدر بننے کے بعد پاکستان کو دیا، اس حکومت نے اسے کھو دیا۔'

چونکہ ایک تاثر یہ بھی پایا جاتا ہے کہ کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات میں سویلین حکومت کا کنٹرول کم ہی ہوتا ہے، اس سوال کے جواب میں کہ پاکستان کی سول حکومت کے پاس افغان پالیسی پر کتنا اختیار ہے سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ ’جہاں تک بارڈر اور سکیورٹی کا تعلق ہے تو اس میں فوج کا جائز کردار ہے، لیکن جہاں تک ’اکنامک اینگیجمنٹ‘ کی بات ہے تو یہ سب کچھ حکومت کی ذمہ داری ہے۔‘

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ تعلقات کی ایک وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ افغانستان بار بار پاکستان کے سامنے حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کا مطالبہ رکھتا ہے، اور یہی مطالبہ امریکہ بھی کئی برسوں سے کر رہا ہے۔ تو کیا اب وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کو کارروائی شروع کر دینی چاہیے؟ اس سوال کے جواب میں حنا ربانی کھر کا کہنا تھا کہ ’پہلے افغان حکومت کو یہ کرنا ہو گا کہ پاکستان میں رہنے والے افغان شہریوں کو وطن واپس لے جائیں، پھر اگر پاکستان میں کچھ لوگ رہ جائیں اور افغان حکومت ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرے تو وہ عین جائز ہے، بالکل اسی طرح جائز ہے جس طرح پاکستان افغانستان سے تحریک طالبان پاکستان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption افغان صدر نے کہا ہے کہ 'پاکستان نے افغانستان کے لیے پانچ سو ملین ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے، بہتر ہوگا کہ وہ اس رقم کا استعمال پاکستان کے اندر انتہا پسندی پر قابو پانے پر صرف کرے۔'

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہو گا کہ ہمارے بس میں جو کچھ بھی ہے وہ ہم کریں اور اس کے بعد افغانستان سے توقعات رکھیں۔

حنا ربانی کھر کے بقول ’پاکستان ہزاروں میل دور ممالک، چاہے وہ برطانیہ ہو یا امریکہ سے تو تعلقات بہتر بنانے کے لیے وسائل خرچ کرتا ہے لیکن جب خطے میں آئیں اور ہمسایہ ممالک کی بات کریں تو تعلقات میں وہ جوش اور ہم آہنگی نظر نہیں آتی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں افغانستان کے ساتھ تعلقات کی جو کوششیں کیں موجودہ حکومت اسے آگے بڑھانے میں ناکام رہی ہے۔ ’جہاں ہم چھوڑ کے گئے تھے، حالات وہاں سے بہت دور چلے گئے ہیں۔‘

اسی بارے میں