یمن میں شہری ہلاکتیں: امریکہ کا سعودی عرب کو اسلحے کی فروخت محدود کرنے کا اعلان

یمن تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اکتوبر میں ایک شادی کی تقریب پر فضائی حملے میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے

امریکہ نے کہا ہے کہ وہ یمن میں فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکت کے خدشاتکی بنا پر سعودی عرب کو اسلحہ کی فروخت محدود کر دے گا۔

پیٹاگون کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کو اب گائیڈڈ ہتھیار (پی جی ایم) مہیا نہیں کیے جائیں گے۔

یمن: سعودی اتحاد کی بمباری سے 60 ہلاکتیں

صدر براک اوباما کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یمن میں جس انداز میں فضائی حملے کیے گئے ان میں ’خرابیوں‘ پر انھیں خدشات ہیں۔

اکتوبر میں ایک شادی کی تقریب پر فضائی حملے میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد یمن ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے خلاف وہاں کی منتخب حکومت کی مدد کر رہا ہے اور اس حملے کا الزام سعودی اتحاد پر عائد کیا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نیشنل سکیورٹی کونسل کے ترجمان نیڈ پرائس نے سعودی عرب کو خبردار کیا تھا کہ امریکی کا سکیورٹی تعاون ’خالی چیک نہیں ہے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
کیا دنیا یمن کی خانہ جنگی کو فراموش کر چکی ہے

پینٹاگون اہلکار کے مطابق سعودی عرب کی فضائی کارروائیوں میں شامل پائلٹوں کو تربیت فراہم کرے گا تاہم کم سے کم عام شہری متاثر ہو سکیں۔

جبکہ دیگر متوقع عسکری معاہدوں میں 3 ارب ڈالر پر مشتمل فوجی ہیلی کاپٹروں کی فراہمی بھی شامل ہے۔

یمن میں سنہ 2014 سے جاری جنگ میں اب تک ہزاروں افراد ہلاک اور 30 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔

حوثی باغیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کر رکھا ہے جبکہ عبدالربہ منصور ہادی کی حکومت ملک چھوڑ چکی ہے۔ تاہم کچھ وزرا اس وقت سے عدن شہر واپس آ چکے ہیں۔

سعودی عرب بڑے پیمانے پر شہریوں کی ہلاکت کی تردید کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ شہریوں کو نشانہ بنانے سے اجتناب برتنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ سعودی عرب امریکی اسلحے کا سب سے بڑا خریدار ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں