حلب میں باغیوں کے علاقے سے شہریوں کا انخلا جاری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شہر میں قریبا 50 ہزار افراد پھنسے ہیں

شام کے شہر حلب سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے کم و بیش تین ہزار افراد کو لے کر پہلا قافلہ حلب شہر سے نکل رہا ہے جس میں سینکڑوں بچے شام ہیں۔

عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ تمام شہریوں کے علاقے سے نکلنے میں کئی دن لگیں گے۔

* ’یہ حلب سے آخری پیغام ہو سکتا ہے'

* ’شامی فوج مکانوں میں داخل ہو کر مکینوں کو مار رہی ہے‘

ادارے کے مطابق باغیوں کے علاقوں سے مزید لوگوں کو نکالنے کے لیے ایک دوسرا قافلہ بھی گیا ہے۔

شام کے شہر حلب سے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں سے سینکڑوں لوگ بسوں اور ایمبولینسوں میں باہر نکلے ہیں جو جنگ بندی کے دوران مہیا کیے گئے محفوظ راستوں سے گزرتا ہوا آگے بڑھا۔

شام کے سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والی تصاویر میں حلب کے مشرقی علاقوں سے بسوں کو نکلتے دکھایا گیا ہے۔

اب بھی علاقے میں ہزاروں باغی جنگجو اور ان کے خاندان موجود ہیں۔

عام لوگوں، باغیوں اور ان کے خاندانوں کو بدھ کو ہی نکالا جانا تھا، لیکن جنگ بندی کے لیے ہونے والے پہلا سمجھوتہ ناکام ہو گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کئی لوگ زخمی ہیں لیکن علاقے میں ہسپتال تباہ ہو چکے ہیں

مشرقی حلب پر تقریباً چار سال سے باغیوں کا قبضہ ہے۔ روس کی حمایت سے سرکاری فوج نے اس ہفتے باغیوں کے زیر قبضے تقریباً پورے علاقے پرکنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

اسے صدر بشار الاسد کے لیے بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ انھوں نے حلب کی ’آزادی‘ کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ نئی تاریخ بن رہی ہے۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈ کراس کے مشرق وسطی کے ریجنل ڈائریکٹر رابرٹ مارڈني نے کہا، ’آپریشن شروع ہو چکا ہے۔ ہماری ٹیمیں محفوظ ہیں اور موقعے پر جو کچھ کر سکتی ہیں، وہ کر رہی ہیں۔‘

روس کی وزارت دفاع کے مطابق بسوں کے ذریعے زخمیوں، عام لوگوں اور باغی جنگجوؤں کو قریبی صوبے ادلب لے جایا جا رہا ہے۔ اس صوبے کا زیادہ تر حصہ طاقتور باغی اتحاد کے کنٹرول میں ہے۔

روسی فوج کے جنرل ویلیری گیراسموف نے بتایا، ’جنگجوؤں کو باہر نکالنے کے لیے 21 کلومیٹر طویل کوریڈور بنایا گیا ہے۔ چھ کلومیٹر کا حصہ حکومت کے کنٹرول والا ہے اور باقی 15 کلومیٹر پر غیر قانونی مسلح گروپوں کا کنٹرول ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بسوں کے لیے ایک محفوظ راستہ طے کیا گیا ہے

انھوں نے بتایا کہ انخلا کے آپریشن میں 20 بسوں اور 10 ایمبولینسیں شامل ہیں۔ کچھ باغی گاڑیوں کا استعمال کر رہے ہیں. ان کی تعداد 100 کے قریب ہے۔

انخلا کی کارروائی کے آغاز پر ہی مشرقی حلب میں ایمبولینس سروس کے ایک اہلکار نے بتایا کہ ایمبولنسوں کے ایک قافلے پر گولیاں چلائی گئیں اور تین افراد زخمی ہو گئے۔

عالمی ادارہ صحت کی الزبتھ ہاف نے معلومات دی کہ آپریشن صحیح طریقے سے آگے بڑھ رہا ہے۔

اندازہ ہے کہ مشرقی حلب میں 50 ہزار لوگ پھنسے ہوئے تھے جن میں عام شہریوں کے علاوہ چار ہزار جنگجو ہیں اور 10 ہزار کے قریب ان کے خاندان کے افراد ہیں۔

حلب میں پھنسے لوگ کئی ہفتوں سے جاری بھاری بمباری کے باعث خوراک اور ایندھن کی کمی سے دو چار ہیں۔ شہر کے زیادہ تر ہسپتال ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ روس کے ایک فوجی افسر نے جمعرات کو کہا کہ لوگوں کو باہر نکالنے کے ساتھ ہی حلب میں شام کی فوج کی کارروائی تقریبا مکمل ہو چکی ہے۔

اسی بارے میں