روہنگیا مظالم، اقوام متحدہ کی سوچی حکومت پر تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

اقوام متحدہ نے روہنگیا افلیت کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک کی بنا پر آنگ سان سوچی کی قیادت میں قائم میانمار حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

انسانی حقوق کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ اسے ہر روز ریپ، قتل اور دیگر زیادتیوں کے بارے میں رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں لیکن آزاد مبصرین کو ان جرائم کی تحقیقات سے روکا جا رہا ہے۔

ادارے کے سربراہ زید راعد الحسین نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نوبل انعام یافتہ رہنما آنگ سان سوچی کی قیادت میں قائم میانمار کی حکومت کی طرف سے اختیار کیا گیا طرزِ عمل 'خلاف منشا اور بے حس' ہے۔

میانمار کی رخائن ریاست میں فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد کم از کم 76 روہنگیا مسلمان ہلاک ہوئے ہیں جبکہ 27 ہزار کو اپنا گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی کے کے بنگلہ دیش جانے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

مسٹر الحسین نے کہا ہے کہ انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کو بے بنیاد قرار دے کر رد کرنے کی حکومتی پالیسی مظالم کا نشانہ بننے والوں کی توہین ہے اور انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کے تحت حکومت پر عائد ذمہ داریوں سے فرار کی کوشش ہے۔

'اگر حکام کا دامن صاف ہے تو وہ ہمیں تحقیقات کی اجازت دینے سے کیوں ہچکچا رہے ہیں؟ جس طرح سے ہمیں وہاں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی، اس سے ہمیں بدترین صورتِ حال کے خدشات لاحق ہو رہے ہیں۔'

انسانی حقوق کے بارے میں اقوامِ متحدہ کے ادارے کی ترجمان روینا شامداسانی نے کہا ہے کہ ان کے ادارے میں علاقے میں جانے کی باضابطہ درخواست دی ہے لیکن اسے اجازت نہیں دی گئی۔

ترجمان کے مطابق مسٹر الحسین نے اس سال جون میں کہا تھا کہ ہو سکتا ہے میانمار میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب ہو رہا ہو اور اگر حکومت نے صورتِ حال سے نپٹنے کے لیے احتیاط نہ کی اور روہنگیا اقلیت کی مشکلات پر توجہ نے دی تو تشدد کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

'بدقسمتی سے گزشتہ چند ماہ سے ٹھیک ایسے ہی ہو رہا ہے۔ ہمیں فکر ہے کہ یہ کنٹرول سے باہر ہو جائے گا۔ یہ پر تشدد انتہاپسندی کی نمو کے لیے انتہائی موزوں حالات ہیں۔'

اسی بارے میں