شکست کا ذمہ دار روس ہے: ہلیری کلنٹن

ہلیری کلنٹن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption روس پر ڈیموکریٹک پارٹی اور ہلیری کلنٹن کی ایک اہم اتحادی کے ای میل ہیک کرنے کا الزام ہے

امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہلیری کلنٹن نے اپنی شکست کے لیے پہلی بار روس کی جانب سے کی گئی ہیکنگ کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔

انھوں نے پارٹی کے لیے چندہ دینے والوں سے کہا کہ روس کے صدر ولادمر پوتن کو ان سے ذاتی شکایت 'تھی کیونکہ انھوں نے پانچ سال پہلے روس کے پارلیمانی انتخابات میں دھاندلی کی بات کی تھی۔

* امریکہ ہیکنگ کے ثبوت لائے یا پھر خاموش رہے: روس

* ’انتخاب میں مداخلت پر روس کے خلاف کارروائی کریں گے‘

ہلیری کلنٹن نے کہا، ’پوتن نے اپنے لوگوں کے غصے کے لیے عوامی طور پر مجھے مجرم ٹھہرایا تھا۔ اس وقت انھوں نے جو کہا اور اِس انتخاب میں انھوں نے جو کیا اس کے درمیان براہ راست تعلق ہے۔‘

روس پر ڈیموکریٹک پارٹی اور ہلیری کلنٹن کی ایک اہم اتحادی کے ای میل ہیک کرنے کا الزام ہے، لیکن روس ان الزامات کی سے تردید کرتا رہا ہے۔

ہلیری نے کہا، ’یہ صرف میرے اور میری مہم پر حملہ نہیں ہے۔ یہ حملہ ہمارے ملک کے خلاف ہے۔ یہ ہماری جمہوریت کی سالمیت اور ہمارے ملک کی حفاظت سے منسلک معاملہ ہے۔‘

ہلیری نے ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز كومی کی جانب سے جاری خط کا ذکر بھی کیا جس میں ان کے اہم ریاستوں میں قریبی مقابلوں میں ہارنے کی بات کی گئی تھی۔

اس درمیان اثنا میں ایف بی آئی نے سی آئی اے کے روس کی مداخلت سے متعلق اندازے کی حمایت کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption روسی صدر کا کہنا ہے کہ امریکہ الزامات کے ثبوت لائے

ملازمین کو بھیجے ایک پیغام میں سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان برینن نے کہا کہ وہ كومی اور نیشنل انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جیمز كلیپر سے ملے اور ’ہمارے درمیان صدارتی انتخابات میں روس کی مداخلت کو لے کر اتفاق تھا۔‘

ادھر، امریکی صدر براک اوباما نے سال کی اپنی آخری پریس کانفرنس میں ہیکنگ کے الزامات سے متعلق اپنے اقدامات کا دفاع کیا۔

اوباما نے کہا کہ اس وقت انھوں نے مبینہ ہیکنگ کے کسی مقصد کی بات نہیں کی تاکہ انتخابات کی جانبداری متاثر نہ ہو۔

وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے جمعرات کو کہا تھا کہ سائبر حملے میں صدر ولادمر پوتن شامل ہیں۔

اوباما نے کہا کہ ستمبر میں ایک کانفرنس کے دوران انھوں نے پوتن سے بات کی تھی اور انہیں ’اسے بند کرنے‘ کے لیے کہا تھا۔

انتخابی مہم کے اہم وقت کے دوران ای میل لیک ہونے سے ڈیموکریٹک پارٹی کو مشکل صورت حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

سی آئی اے کا کہنا ہے کہ روس کا مقصد انتخابات کو ریپبلکن امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں طرف مائل تھا، لیکن اس کے بارے میں عوامی طور پر کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا ہے۔

ٹرمپ ان دعووں کو ’مضحکہ خیز‘ اور سیاسی فعل کہہ کر مسترد کر چکے ہیں۔

كومی نے صدارتی انتخابات کے 11 دن پہلے ہلیری کلنٹن کے ای میل سرور کی نئے سرے سے جانچ کا اعلان کیا تھا۔ انتخابات کے دو دن پہلے یہ کیس بند کر دیا گیا تھا۔

اس کے پہلے ایف بی آئی نے کہا تھا کہ وزیر خارجہ کے طور پر ہلیری کلنٹن اپنے ذاتی ای میل سرور کے استعمال میں ’انتہائی لاپرواہ‘ تھیں، لیکن ان پر فرد جرم عائد کیے جانے کی کوئی بنیاد نہیں ہے۔

اسی بارے میں