’مجھے شکست روسی ہیکنگ اور ایف بی آئی تحقیقات کی وجہ سے ہوئی‘

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ روسی حملہ ہمارے ملک ہر حملہ ہے

ڈیموکریٹک پارٹی کی سابق صدارتی امیدوار ہلیری کلنٹن نے پہلی بار صدارتی انتخاب میں شکست کی ذمہ داری ایف بی آئی اور روس کی مبینہ ہیکنگ پر عائد کی ہے۔ ۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ صدر پوتن کی ان سے ذاتی ناراضی تھی کیونکہ کہ انھوں نے پانچ سال قبل روس میں پارلیمانی انتخابات کو غیر شفاف قرار دیا تھا۔

انھوں نے اہم ریاستوں میں اپنی شکست کی ایک وجہ ایف بی آئی کے ڈائریکٹر جیمز کامی کی جانب سے اس خط کو ریلیز کرنا بھی بتایا جس میں کہا گیا تھا کہ ایف بی آئی ہلیری کلنٹن کے ای میلز کی مزید تفتیش کر رہا ہے۔

امریکی انتخاب: ’روسی ہیکنگ‘ کی تحقیقات کا حکمم

امریکہ ہیکنگ کے ثبوت لائے یا پھر خاموش رہے: روس

پوتن کو صدارتی انتخاب سے قبل تنبیہ کی تھی: اوباما

ادھر ایف بی آئی نے سی آئی اے کے اس تجزیے کی تائید کی ہے کہ امریکی صدارتی انتخاب میں روس نے مداخلت کی تھی۔

سی آئی اے کے ملازمین کے لیے ایک پیغام میں ادارے کے ڈائریکٹر جان برینن نے کہا ہے کہ جیمز کامی اور امریکی نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر کے ساتھ ملاقات میں ان تینوں کے درمیان صدارتی انتخابات میں روسی مداخت کی نوعیت اور حد پر اتفاقِ رائے تھا۔ امریکی میڈیا اداروں نے یہ ویڈیو دیکھی ہے۔

یاد رہے کہ اس سال کی آخری پریس کانفرنس میں امریکہ کے صدر براک اوباما کا کہنا تھا کہ انھوں نے امریکی صدارتی انتخاب سے قبل روس کے صدر ولادی میر پوتن کو تنبیہ کی تھی وہ امریکہ کے انتخابی مراحل میں مداخلت نہ کریں۔

ہیکنگ سے روسی صدر کتنے واقف ہیں اس بارے صدر اوباما نے کہا کہ 'ولادی میر پوتن کی مداخلت کے بغیر روس میں زیادہ کچھ نہیں ہو سکتا۔'

صدر اوباما نے کہا کہ انھوں نے رواں سال ستمبر میں ایک کانفرنس کے دوران مسٹر پوتن کو کہا تھا کہ ایسا کرنے کے سنجیدہ نتائج سامنے آئیں گے۔ تقریباً ایک ماہ کے بعد امریکہ نے روس پر امریکہ کے صدارتی انتخاب میں اثرانداز ہونے کا الزام عائد کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption روسی مداخلت کا جواب دیں گے:اوباما

صدر اوباما نے وعدہ کیا کہ وہ انتخاب میں ڈیموکریٹک پارٹی سمیت ناکامی سے متعلق ہلیری کلنٹن کی مہم کے چیئرمین کی ای میل پر 'متناسب' جواب دیں گے۔

اوباما نے تجویز دی کہ امریکہ کو اس معاملے پر اپنی سائبر صلاحیتوں کو دکھانا چاہیے اور 'جو وہ ہمارے ساتھ کر رہے ہیں ہم اُن کے ساتھ بھی ویسا ہی کر سکتے ہیں۔'

صدر اوباما نے اپنے پیش رُو ڈونلڈ ٹرمپ کا نام لیے بغیر کہا کہ بعض رپبلکن امریکی انتخاب میں روس کی مداخلت کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے ہیں۔ اوباما نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ روس کے سائبر حملے کی مکمل تحقیقات کروائیں۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکی خفیے ایجنسیوں کا یہ الزام کہ اُن کی کامیابی میں روسی ہیکرز کی معاونت شامل ہیں، مضحکہ خیز اور سیاسی نوعیت کا ہے۔

اسی بارے میں