’تین سپاہیوں نے میرے ساتھ زیادتی کی‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کے خلاف میانمار فوج کا مبینہ تشدد 'انسانیت کے خلاف جرائم' کے زمرے میں آتا ہے

'وہ گھر کے اندر گئے، لوگوں کو باہر نکالا، انھیں قریبی جنگل میں لے گئے اور پھر انھیں مار دیا ۔۔۔ میں نے بعد میں لاشیں دیکھیں۔'

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی تازہ رپورٹ میں نو اکتوبر کو میانمار کی ریاست رخائن میں فوج پر ایک گروہ کی جانب سے ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے۔

62 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں روہنگیا مسمانوں کا احوال انہی کی زبانی بتانے کی کوشش کی گئی۔ تاہم اس مقصد کے حصول کے لیے ایمنسٹی انٹرنیشنل کی جانب سے میانمار حکومت نے متاثرہ علاقے میں جانے کی اجازت نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ اس رپورٹ کو مرتب کرنے میں ادارے نے ٹیلی فون انٹرویوز اور دیگر ذرائع کا سہارا لیا۔

رپورٹ میں ایمنٹسی سے بات کرنے والے 15 جشم دید گواہوں کے بیانات کو شامل کیا گیا ہے اس کے علاوہ انسانی حقوق کے اداروں سے منسلک افراد سے بھی بات کی گئی ہے۔

آپریشن زدہ علاقے میں موجود بہت سے لوگ زخمی ہیں لیکن طبی عملے کو اس علاقے میں جانے کی اجازت نہیں اور زخمی چل کر ہسپتال نہیں پہنچ سکتے۔

ایک عینی شاہد نے جو اب بھی اسی علاقے میں مقیم ہیں بتایا کہ 'گاؤں میں زخمی لوگ ہیں جنھیں علاج کی ضرورت ہے۔۔ ایک عورت کی ٹانگ میں گولی موجود ہے جو اسے تب لگی تھی جب وہ ملٹری کیمپ سے فرار ہو رہی تھی۔ لیکن اسے طبی امداد نہیں مل سکتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

12 اکتوبر کو فوج اور جنگجوؤں کے درمیان ایک تصادم کی اطلاع ہے جس کے بعد جنگجو قریبی گاؤں ونٹ ہپایو چانگ میں روپوش ہو گئے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق فوج نے وہاں داخل ہو کر مکینوں پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔

گوا سن نامی گاؤں کے مکینوں اور دیگر باوثوق ذرائع نے ایمنسٹی کو بتایا کہ فوجی اہلکاروں اور جنگجوؤں کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔ گاؤں کے ڈنڈا بردار افراد جنگجؤوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ اسی اثنا میں فوج کے ایک لیفٹیننٹ کرنل کی ہلاکت ہوئی اور فوج کو پیچھے جانا پڑا۔ لیکن اس کے تھوڑی ہی دیر بعد گاؤں پر دو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گاؤں کے سات مکینوں نے اس حملے کی تفصیلات بتائیں۔

29 نومبر کو در گئی زر سے بھاگ کر بنگلہ دیش آنے والے ایک 50 سالہ کسان نے اس دن کے بارے میں بتایا کہ ’میں مسجد سے نماز پڑھ کر نکلا تھا کہ میں نے گولیاں چلنے کی آواز سنی، ہم نے بھاگنا شروع کر دیا۔ ہم جنگل کی جانب بھاگے تاکہ محفوظ جگہ پر چھپ سکیں۔ میں نے دیکھا کہ فوج گھروں کو آگ لگا رہی تھی اور فرار ہونے کی کوشش کرنے والوں پر گولیاں برسا رہی تھی۔‘

ادارے کو ایسی تصاویر اور ویڈیوز بھی موصول ہوئی ہیں جن میں یہ دیکھا اور سنا جا سکتا ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

میانمار میں حکام کا کہنا ہے کہ نو اکتوبر کے حملے کے بعد سے دس اکتوبر تک 575 افراد کو حراست میں لیا گیا اور ان سے پوچھ گچھ کی گئی، جن میں سے 88 کو سزائیں سنائی گئیں اور دس کو رہا گیا گیا۔

سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ نومبر اور دسمبر میں لوگوں کی گرفتاریوں میں اضافہ ہوا ہے تاہم ان کو دی جانے والی سزائیں اور ان پر چلنے والے مقدمات کی تفصیلات نہیں دی گئی تھیں۔

ایمنسٹی نے مونگڈا نامی گاؤں کے 26 مردوں سے بات کی جنھیں ایسے ہی حالات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک عینی شاہد کے مطابق ’وہ ہمارے گاوں میں شام تین یا چار بجے آئے۔ انھوں نے ایک گھر کا گھیراؤ کیا اور مردوں کو باہر لے گئے۔ کچھ نے سبز رنگ کی فوجی یونیفارم پہن رکھی تھی، اور کچھ عام پولیس والے تھے۔ فوجیوں نے باہر انتظار کیا اور پولیس والے اندر گئے اور مردوں کو باہر لے کر آئے۔ میں اپنے گھر میں تھا، میں وہاں سے یہ سب دیکھ سکتا تھا۔ پولیس نے انھیں کچھ دیر تک ٹھوکریں ماریں۔ ان کے ہاتھ باندھ دیے گئے اور وہ انھیں لے گئے۔ پولیس نے کچھ بھی نہیں پوچھا اور نہ ہی کچھ کہا۔ وہ انھیں پیدل لے کر گئے تھے۔ ہم نے سنا کہ وہ بوتھیڈوانگ جیل میں ہےمگر ہم نہیں جانتے۔ اس دن سے ہمیں کوئی بھی اطلاع نہیں مل رہی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق میانمار فورسز نے روہنگیا خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بھی بنایا۔ اس سلسلے میں زیادتی کا شکار بننے والی خواتین اور ان کے اہلِ خانہ کے علاوہ عینی شاہدین سے بھی بات ہوئی۔

در گئی زر سے بنگلہ دیشں منتقل ہونے والی 32 سالہ فاطمہ بتاتی ہیں کہ ان کے ساتھ تین سپاہیوں نے زیادتی کی۔

’فوج شام کو آئی، وہ مجھے دھان کے کھیت میں لے گئے۔ وہاں اور بھی خواتین تھیں، پانچ یا چھ میں انھیں نہیں جانتی تھی۔ تین فوجی افسروں نے میرا ریپ کیا۔ مجھے نہیں یاد اس کے بعد کیا ہوا میں بے ہوش ہو گئی تھی۔۔ میں اگلی صبح اٹھی، میں رینگتے ہوئے دھان کے کھیتوں سے نکلی، میں ایک قریبی گھر کے اندر چلی گئی۔ اپنے گھر نہیں گئی کیونکہ میں خوفزدہ تھی کہ فوجی دوبارہ نہ آجائیں۔ وہاں ایک عورت اور اس کی بیٹی تھی۔ انھوں نے مجھے گرم پانی سے صاف کیا۔ میں بہت رو رہی تھی۔ میں نے انھیں اپنے بچوں کو لانے کے لیے کہا۔‘

لیکن حکومت جنسی زیادتی کے ان واقعات کی تردید کرتی ہے۔ صدارتی ترجمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ 800 گھروں پر مشتمل گاؤں جہاں باغی موجود ہوں وہاں ریپ کرنے کی کوئی توجیہ نہیں نظر آتی۔'

یہی نہیں فوج پر یہ بھی الزامات ہیں کہ انھوں نے روہنگیا کے گھروں کو لوٹا، ان کی نقدی اور زیورات کے علاوہ ان کی بنیادی شناختی دستاویزات بھی چھین لیں۔

ایک شخص نے جس کے خاندان کو حراست میں لے لیا گیا تھا ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا کہ 'وہ تمام دستاویزات لے گئے تھے، سفید کارڈ کی رسید (عارضی شناختی فارم) لینڈ ٹیکس ڈاکومینٹس۔۔۔ پولیس نے وہ لیے اور فوج کو دے دیے۔‘

اوچا کے مطابق نو اکتوبر کی کارروائیوں کے بعد 30 ہزار روہنگیا نے نقل مکانی کی لیکن کتنے سرحد پار بنگلہ دیش گئے اور کتنے اندرون ملک نقل مکانی پر مجبور ہوئے اس بارے میں کوئی بھی تفصیلات موجود نہیں۔

وہاں امدادی اداروں کو جانے کی اجازت نہیں ہے اور اس کی وجہ سے رخائن میں ڈیڑھ لاکھ افراد مشکل زندگی گزار رہے ہیں ان میں سے زیادہ تر روہنگیا ہی ہیں اور نو اکتوبر سے قبل بھی وہاں خوراک کی صورتحال اچھی نہیں تھی۔

شدید بین الاقوامی دباؤ کے بعد میانمار کی حکومت نے یکم دسمبر کو تحقیقاتی کمیشن بنانے کی منظوری دی جو 31 جنوری 2017 کو اپنی رپورٹ دائر کرے گا۔

اسی بارے میں