’ایک سے زیادہ حملہ آور ہو سکتے ہیں‘، برلن میں سکیورٹی سخت

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اگر حملہ آور کوئی پناہ گزین ہوا تو یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہو گا: اینگلا میرکل

جرمنی کی پولیس کا کہنا ہے کہ برلن میں کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے حملے میں ممکنہ طور پر ایک سے زیادہ حملہ آور ملوث تھے جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔

کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ دولت اسلامیہ کے دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔ اس حملے میں 12 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوگئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر حملہ آور مسلح ہیں۔ حکام نے برلن میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے۔

٭ آخر جرمنی میں ہو کیا رہا ہے؟

٭ برلن میں ٹرک حملہ: کب کیا ہوا؟

٭ جرمنی میں کرسمس مارکیٹ میں ہلاکتیں، تصاویر

اس سے قبل پولیس نے اس مشتبہ شخص کو رہا کر دیا تھا جسے گزشتہ روز حملے کے بعد جائے وقوعہ سے دو کلومیٹر دور ایک پارک سے گرفتار کیا تھا۔

جرمن استغاثہ کے بقول گرفتار شخص کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ثبوت ناکافی ہیں۔

جرمن ذرائع ابلاغ کے مطابق کرسمس مارکیٹ پر حملے کے بعد نوید نامی پاکستانی شخص کو حراست میں لیا گیا تھا جو رواں برس کے اوائل میں پاکستان سے جرمنی آیا تھا۔

جرمنی کی وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ زیر حراست شخص نے حملے میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے۔

جرمن حکام کے مطابق حملے کے طریقہ کار سے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ اس میں مسلمان شدت پسند ملوث ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حکام کا کہنا ہے کہ ایک یا ایک سے زیادہ حملہ مفرور ہو چکے ہیں۔

دولت اسلامیہ نے اپنے خبر رساں ادارے کے ذریعے ایک بیان میں کہا ہے کہ اتحادی ممالک کی جانب سے ہونے والے حملوں کے جواب میں اس کے 'فوجیوں' نے جوابی حملہ کیا ہے۔

جرمنی کے وزیر داخلہ نے شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے دعوے پر محتاط ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس واقعے کئی پہلوؤں سے تحقیق کئی جا رہی ہیں۔

برلن پولیس کے مطابق اس حملے میں ہلاک ہونے والے چھ افراد کی شناخت ہوگئی ہے اور وہ تمام جرمن شہری تھے۔

اس کے علاوہ زخمی ہونے والے افراد میں سے چوبیس کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ٹرک جسے حملے میں استعمال کیا گیا ہے وہ پولینڈ کی ایک ڈیلیوری کمپنی کی ملکیت ہے اور اس کے ڈرائیور لوکاس اربن کی لاش ٹرک میں سے ملی ہے۔ ٹرک ڈرائیور کو گولیاں بھی ماری گئیں اور چاقو سے وار کیے گئے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ ٹرک پیر کو پولینڈ سے برلن کے لیے روانہ ہوا تھا تاہم مقامی وقت کے مطابق شام چار بجے ان کا ٹرک سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا۔

پولیس کا خیال ہے کہ اس ٹرک کو راستے میں چوری کر لیا گیا تھا۔

ادھر اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل نے برلن حملے کو وحشیانہ اور دہشتگردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردی کے اقدام مجرمانہ فعل ہیں اور اس میں ملوث افراد کے کسی جواز اور محرک کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔

ادھر لندن میں برطانوی پولیس نے شاہی محل بکنگہم میں پیلس گارڈز کی تبدیلی کی تقریب کے موقع پر سکیورٹی سخت کر دی۔ عام حالات میں بکنگہم پیلس گارڈز کی تبدیلی کے موقع پر بڑے تعداد میں لوگ موجود ہوتے ہیں۔

ادھر جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے حملے میں ملوث افراد کو سخت سے سخت سزا دینے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

جرمن چانسلر اینگلا میرکل نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ حملہ آور کہیں کوئی پناہ گزین ہی نہیں ہو۔ انھوں نے کہا کہ اگر ایسا ہوا تو یہ امر انتہائی تکلیف دہ ہوگا کہ ایسا شخص جو خود تحفظ کی تلاش میں جرمنی آیا ہے وہ اس واقعے میں ملوث ہے۔

جرمن نے گزشتہ سال مشرق وسطی اور دوسری جگہوں سے لٹے پٹے 890,000 پناہ گزینوں کو جرمنی میں پناہ دی تھی۔

جرمن صدر یوآخم گوک نے اس موقع پر کہا ہے کہ ’یہ شام برلن اور ہمارے ملک کے لیے انتہائی بری ہے اور اس سے میرے سمیت بے شمار لوگ پریشان ہیں۔ میری نیک تمنائیں متاثرین اور ان کے خاندان والوں کے ساتھ ہیں۔‘

یہ مارکیٹ بریچتپلٹز کے علاقے میں ہے جو کہ شہر کے مغربی علاقے کی مرکزی شاپنگ سٹریٹ کرفرتسنڈام کے قریب ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ادھر فرانس میں وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ تمام کرسمس مارکیٹوں کی سکیورٹی بڑھا دی جائے گی۔

خیال رہے کہ اس واقعہ جیسا ہی ایک اور حملہ جولائی میں فرانسیسی شہر نیس میں ہوا تھا جس میں ایک ٹرک کو لوگوں کی بھیڑ پر چڑھا دیا گیا تھا۔ اُس حملے میں 84 افراد ہلاک ہوئے تھے اور اس کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

عینی شاہدین نے بی بی سی کو بتایا کہ بھاری سامان کو ٹرانسپورٹ کرنے والا ایک ٹرک تقریباً 60 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے مارکیٹ کے مرکزی سکوئر میں جا کر ٹکرایا اور بظاہر ڈرائیور نے اسے آہستہ کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ٹرک کے ڈرائیور کو گرفتار کر لیا گیا ہے تاہم اطلاعات کے مطابق ان کے شریک ڈرائیور ہلاک ہوگئے ہیں۔

اسی بارے میں