سوئٹزرلینڈ: حملہ آور کی لاش مل گئی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پولیس کے مطابق حملہ آور کی لاش مرکز سے تھوڑی ہی دور ایک پل کے نیچے ملی

سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں ایک مسجد کے قریب حملہ کرنے والے شخص کی لاش اسلامک سینٹر سے تھوڑی ہی دور ملی ہے۔۔

حملہ آور نے پیر کی شام زیورخ کے ریلوے سٹیشن کے قریب واقع ایک صومالی اسلامی مرکز پر تین افراد کو گولیاں مار کے زخمی کر دیا تھا۔

حملے کے بعد پولیس کو اسلامی مرکز سے چند گلیاں دور ایک پل کے نیچے ایک شخص کی لاش اور بندوق ملی تھی۔ پولیس نے تصدیق کی ہے کہ یہ لاش حملہ آور کی ہے، تاہم پولیس نے اس زیادہ معلومات فراہم نہیں کی ہیں کہ اس حملے اور نام نہاد دولت اسلامیہ کے درمیان کسی تعلق کا کوئی نشان نہیں ملا ہے۔

اس حملے میں دو افراد شدید زخمی ہو گئے تھے جبکہ تیسرے تیس سالہ شخص کی حالت خطرے سے مکمل باہر ہے۔

مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس وقت مرکز میں دس لوگ موجود تھے جب شام ساڑھے پانچ بجے کے قریب اونی ٹوپی پہنے ہوئے ایک بندوق بردار شخص نے حملہ کر دیا۔

فائرنگ کرنے کے بعد حملہ آور فرار ہو گیا تھا اور پولیس نے علاقے کی گلیوں میں اس کی تلاش شروع کر دی تھی۔

آخر کار پولیس کو اس کی لاش مرکز سے چند سو میٹر دور ایک پل کے نیچے ملی جس کے قریب کی ایک بندوق بھی پڑی ہوئی تھی۔

مذکورہ اسلامی مرکز میں آنے والے لوگوں کا تعلق زیادہ تر صومالیہ،اریٹریا اور شمالی افریقہ سے ہے۔

ان میں سے ایک شخص کا کہنا تھا کہ واقعے کے بعد لوگ بہت خوفزدہ ہیں۔

’ہمارے بچے ہر ہفتے اس مسجد میں آتے ہیں، لیکن میں سوچتا ہوں کہ اب ان کا یہاں آنا محفوظ ہے یا نہیں۔‘

اس سے قبل سوئس ذرائع ابلاغ نے خبر دی تھی کہ زخمی ہونے والے تین افراد مسجد کے قریب اسغاس نامی ایک چھوٹی سی گلی میں ملے تھے۔

یاد رہے کہ سوئٹزرلینڈ کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب تقریباً پانچ فیصد ہے جن میں سے اکثر سابقہ یوگوسلاویا سے ہجرت کر کے آئے ہیں۔

2009 میں سوئٹزرلینڈ کی حکومت نے ایک قانون کی منظوری دی تھی جس کے تحت ملک میں مساجد پر نئے مینار بنانے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

اسی بارے میں