برلن حملہ: ’مشتبہ حملہ آور پولیس کے زیرِ نگرانی رہ چکا تھا‘

تیونسی باشندہ تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption تیونسی باشندے کا عارضی رہائشی پرمٹ ٹرک میں سے ملا تھا

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں کرسمس مارکیٹ میں ہونے والے حملے کے شبہے میں ایک شخص کی شناخت کے بعد یورپ کی شینگن ریاستوں میں اس کی تلاش جاری ہے۔

رات گئے اس کی گرفتاری کے لیے وارنٹ جاری کر دیے گئے۔ پولیس نے ابھی میڈیا کو تفصیل نہیں بتائی لیکن رپورٹس کے مطابق مشتبہ شخص کا نام انیس عامری ہے جو تطاوين کے شہر میں 1992 کو پیدا ہوئے تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق یہ شخص اس سال کے آغاز میں پولیس کی نگرانی میں تھا جب حکام کو شک تھا کہ وہ چوری کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ تاہم شواہد کی کمی کی وجہ سے یہ نگرانی ختم کر دی گئی۔

٭ برلن میں ٹرک حملہ: کب کیا ہوا؟

٭ جرمنی میں کرسمس مارکیٹ میں ہلاکتیں، تصاویر

٭ 'ایک سے زیادہ حملہ آور ہو سکتے ہیں'

اطلاعات کے مطابق گذشتہ ماہ اس کے متعلق انسدادِ دہشت گرد پولیس کو بتا دیا گیا تھا اور گذشتہ جون سے انھیں ملک سے نکالے جانے کی کوششیں ہو رہی تھیں۔

پولیس کی جانب سے گرفتار اور بعد میں رہا کیے جانے والے پاکستانی نژاد نوید بلوچ تاحال لاپتہ ہیں۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کو حملے میں استعمال کیے جانے والے ٹرک سے ایک عارضی ویزے کا پرمٹ ملا ہے جو کسی آنس اے کا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹینمیئر حادثے کے مقام پر پھول رکھ رہے ہیں

پولیس کی کارروائی نارتھ راہن۔ ویسٹفالیا میں جاری ہے جہاں سے یہ پرمٹ جاری کیا گیا تھا۔

اطلاعات کے مطابق مشتبہ شخص ٹرک کے ڈرائیور کے ساتھ مڈبھیڑ میں زخمی بھی ہو گیا ہوا ہے۔ ڈرائیور کو بعد میں ایک ٹیکسی میں مردہ پایا گیا تھا۔ حملے میں اب تک 12 لوگ ہلاک ہو چکے ہیں۔

چانسلر اینگلا مرکل حملے کی تحقیقات کا جائزہ لینے کے لیے اپنی سکیورٹی کی کابینہ سے ملی ہیں۔

شینگن ریاستوں یورپی یونین کی تمام ریاستوں کے علاوہ آئسلینڈ، لیشٹینسٹین، ناروے اور سویٹزرلینڈ شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق آنس اے 2012 میں اٹلی آئے تھے جہاں سے 2015 میں جرمنی پہنچے، جہاں انھوں پناہ کے لیے درخواست دی۔ اس سال اپریل میں انھیں عارضی طور پر رہائش کا پرمٹ دے دیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ REX/SHUTTERSTOCK
Image caption مشتبہ شخص کی تصویر جاری کر دی گئی ہے

نارتھ راہن ویسٹفیلیا کے وزیرِ داخلہ رالف جیئگر نے بدھ کو کہا کہ آنس کے ان پناہ کے لیے درخواست رد ہو چکی ہے لیکن اب تک انھیں ملک سے باہر نکالنے کے کاغذات تیار نہیں ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ تیونس نے انکار کیا تھا کہ آنس اے ان کے شہری ہیں اس لیے حکام کو پاسپورٹ کے عارضی کاغذات کے لیے انتظار کرنا پڑ رہا تھا۔

’یہ کاغذات تیونس سے آج پہنچے تھے۔‘

اخبارات کے مطابق مشتبہ تیونسی باشندے کی عمر 21 یا 23 سال ہے اور اس نے پہلے جھوٹے نام بھی استعمال کیے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق انھوں نے اپریل میں پناہ کی درخواست دی تھی اور انھیں عارضی رہائشی پرمٹ دیا گیا تھا۔

اس سے قبل پاکستانی نژاد نوید بلوچ کو حملے کے بعد جائے وقوعہ سے دو کلومیٹر دور ایک پارک سے گرفتار کیا گیا تھا جبکہ جرمن استغاثہ کے بقول گرفتار شخص کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے ثبوت ناکافی ہیں۔

نوید بلوچ کے کزن وحید بلوچ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کے کزن تاحال لاپتہ ہیں اور وہ ان سے رابطے کی کوشش کر رہے ہیں۔

بی بی سی اردو نے بھی نوید بلوچ کے فون نمبر پر رابطے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

وحید بلوچ کا کہنا تھا پولیس کی جانب سے اعلان کے بعد وہ مہاجر کیمپ میں نوید بلوچ کے کمرے میں ان سے ملنے گئے تھے لیکن وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

وحید بلوچ نے بتایا: 'وہ میرے خاندان کی طرح ہے، اس ملک میں صرف میں ہی اس کا خاندان ہوں اور جب اسے حراست میں لیا گیا ہم ایک ساتھ تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کئی مسلم تنظیموں نے جرمنی میں حملے کی مذمت کی ہے

وحید بلوچ کے مطابق نوید بلوچ صوبہ بلوچستان میں سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے تشدد کے بعد گذشتہ سال جرمنی آئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ نوید بلوچ کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں ہے اور وہ اردو، انگریزی یا جرمن زبان نہیں بول سکتے۔

دوسری جانب جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ کرسمس مارکیٹ پر ٹرک کے ذریعے ہونے والے حملے میں ممکنہ طور پر ایک سے زیادہ حملہ آور ملوث ہوسکتے ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔

پولیس نے میڈیا اور عوام کو بتایا کہ مجرمان کی گرفتاری تک وہ چین سے نہیں بیٹھیں گے اور اس سلسلے میں پولیس کی جانب سے بڑے پیمانے پر تلاش کا کام کیا جا رہا ہے۔

پولیس کے صدر کلوس کینڈٹ نے بی بی سی کو بتایا کہ پولیس کو 500 سے زائد سراغ ملے ہیں اور وہ ان میں سے 80 کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ اس کے ایک رکن نے کیا ہے۔ خیال رہے کہ دولت اسلامیہ نے اپنے حامیوں کو مغربی اہداف کو گاڑیوں کے ذریعے نشانہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔

دولت اسلامیہ کی جانب سے تاحال حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ عام طور پر دولت اسلامیہ کی جانب سے حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے حملہ آور کی شناخت اور تصاویر جاری کی جاتی ہیں۔

دوسری جانب کئی مسلم تنظیموں نے جرمنی میں حملے کی مذمت کی ہے۔ مسلمز اگینسٹ ٹیررزم کی جانب سے حملے میں ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے لیے شمعیں روشن کی گئیں اور اس کے ارکان نے دہشت گردی کے خلاف پیغامات والی جرسیاں پہنیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن کے داخلے کی پالیسی کا دفاع کیا ہے

جرمن چانسلر انگیلا مرکل نے ملک میں لاکھوں کی تعداد میں تارکین وطن کے داخلے کی پالیسی کا دفاع کیا ہے اور کہا ہے کہ حملے میں جو بھی ملوث ہوگا اسے سزا دی جائے گی۔

جرمنی نے گذشتہ سال مشرق وسطی اور دوسری جگہوں سے لٹے پٹے 890,000 پناہ گزینوں کو ملک میں پناہ دی تھی۔

انگیلا مرکل کو ملک کی انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے تاہم حالیہ رائے عامہ کے اندازوں کے مطابق بیشتر افراد اب بھی انگیلا مرکل کی حمایت کر رہے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے خیال میں وہ امید کر رہی ہیں کہ حالیہ حملے میں ملوث شخص پناہ گزیں یا تارک وطن نہ ہو کیونکہ اس سے ان کی پناہ گزینوں کے حوالے سے پالیسی مزید دباؤ کا شکار ہوگی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں