حلب سے شہریوں کا انخلا اختتام کے قریب

حلب تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شام کے شہر حلب سے ہزاروں افراد اب بھی انخلا کے منتظر ہیں

عالمی امدادی ادارے ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ شام کے شہر حلب میں باغیوں کے زیرِ قبضہ اضلاع سے عام شہریوں کا انخلا جعرات یا جمعے تک مکمل کیا جانا چاہیے۔

توقع کی جا رہی ہے کہ حلب سے عام شہریوں کے انخلا کے آخری مرحلے کے لیے درجنوں بسیں اور سینکڑوں گاڑیوں استعمال کی جائیں گی۔

مشرقی حلب سے شہریوں کا انخلا دوبارہ شروع ہو گیا

حلب: باغیوں نے انخلا کے لیے جانے والی بسوں کو نذرآتش کردیا

واضح رہے کہ شام کے شہر حلب سے ہزاروں افراد اب بھی انخلا کے منتظر ہیں۔

ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ آٹھ دن پہلے شروع ہونے والے جنگ بندی کے معاہدے بعد سے کم سے کم 34,000 افراد حلب چھوڑ چکے ہیں۔

انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی خاتون ترجمان انگی سیڈکی نے خبر رساں ادارے اے ایف کو بتایا 'حلب سے عام شہریوں کا انخلا جمعرات کو تمام دن اور غالباً جمعے تک جاری رہے گا۔

دوسری جانب شامی حکومت کے باغی گروپ احرار الا شام کے ترجمان احمد کارا علی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ' حلب میں شہریوں کی بڑی تعداد اب بھی وہاں موجود ہے۔'

شام میں شہریوں کے انخلا کے آپریشن میں ملوث ایک ڈاکٹر نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ باغیوں کے زیرِ قبضہ قصبے خان العسل سے کم سے کم 400 پرائیوٹ گاڑیوں پر مشتمل قافلہ حلب پہنچا۔

آئی سی آر سی کی خاتون ترجمان انگی سیڈکی کا کہنا ہے کہ اس قافلے میں 4,000 افراد شامل تھے۔

ان کا مذید کہنا تھا 'خراب موسم، شدید برفباری اور گاڑیوں کی بری حالت کا مطلب یہ ہے کہ شہریوں کے انخلا کی رفتار امید سے کہیں کم ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption 'خراب موسم، شدید برفباری اور گاڑیوں کی بری حالت کا مطلب یہ ہے کہ شہریوں کے انخلا کی رفتار امید سے کہیں کم ہے۔'

حلب سے شہریوں کے انخلا میں تاخیر کی وجوہات واضح نہیں ہیں تاہم شام کے سرکاری میڈیا نے اس کا الزام ادلب میں باغیوں پر عائد کیا ہے۔

اس سے پہلے شام کے صوبے ادلب میں حکومت مخالف باغیوں کے زیرِ انتظام دیہات سے بیمار اور زخمی شہریوں کے انخلا کے لیے جانے والی کئی بسوں کو باغیوں نے نذر آتش کر دیا تھا۔

بسوں کا یہ قافلہ باغیوں کے محاصرے میں واقع فوعہ اور کفریا دیہات کی جانب جا رہا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں