روہنگیا مسلمان کی سربریدہ لاش دریا سے ملی

میانمار تصویر کے کاپی رائٹ AP

حکام نے کہا ہے کہ اس روہنگیا مسلمان کی سربریدہ لاش ملی ہے جس نے چند دن قبل نامہ نگاروں کو میانمار کی ریاست رخائن میں پھیلی شورش کے بارے میں بتایا تھا۔

اس 41 سالہ شخص کی لاش جمعے کو ایک دریا میں تیرتی ہوئی ملی۔

٭ 'ہم روہنگیا ہیں، ہمیں مار ہی دیجیے'

٭ روہنگیا مسلمانوں کا درد

بدھ کو میانمار کے نامہ نگاروں سے بات چیت کے بعد اس شخص کے خاندان والوں نے اس کی سلامتی کے بارے میں تشویش ظاہر کی تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ وہ تفتیش کر رہے ہیں۔ یہ علاقہ جنگجوؤں کی طرف سے سرحدی چوکیوں پر حملوں کے بعد سے بند کر دیا گیا ہے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ میڈیا کے ایک دورے کے دوران مقتول نے نامہ نگاروں کو فوج کی جانب سے کیے جانے والے استحصال کے بارے میں بتایا تھا اور کہا تھا کہ یہ حملے مقامی دیہاتی کر رہے ہیں۔

ریاست رخائن میں میانمار کی مسلمان روہنگیا آباد ہیں، جس کا شمار دنیا کی سب سے زیادہ ستائی جانے والی اقلیتوں میں ہوتا ہے۔

ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے میانمار کی سکیورٹی فورسز پر ریپ، قتل اور تشدد کا الزام عائد کیا ہے۔

فوج ان الزامات کی تردید کرتی ہے اور اس نے کہا ہے کہ وہ رخائن میں انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں میں مصروف ہے۔

اکتوبر میں پولیس چوکیوں پر حملوں میں نو اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد فوجیوں نے بنگلہ دیش کی سرحد کے ساتھ دشوار گزار علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

میانمار کی حکومت نے بھی استحصال سے انکار کیا ہے۔

روہنگیا کی بڑی تعداد پناہ کی تلاش میں سرحد پار کر کے بنگلہ دیش چلی گئی ہے۔

اسی بارے میں