دولتِ اسلامیہ کا ترک فوجیوں کو زندہ جلانے کا دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption ریمورٹ کنٹرول کے ذریعے قیدیوں کو زندہ جلایا گیا

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے ایک ویڈیو کے حوالے سے یہ دعویٰ کیا ہے کہ اس میں دو ترک سپاہیوں کو زندہ جلایا گیا ہے۔

دولتِ اسلامیہ کا کہنا ہے کہ اس کا یہ اقدام ترکی کی جانب سے مسلمانوں کے قتل کا بدلہ ہے۔

٭دو سال میں دولت اسلامیہ کے ’50 ہزار جنگجو ہلاک‘

٭ دولتِ اسلامیہ کی پروپیگنڈہ ’وار‘

خیال رہے کہ ترکی نے رواں برس اگست میں ہمسایہ ملک شام میں دولتِ اسلامیہ کے حلاف ایک مہم کا آغاز کیا تھا اور اب وہ الباب جو کہ دولتِ اسلامیہ کا مضبوط گڑھ ہے، اس میں تنظیم سے جنگ لڑ رہا ہے۔

اس ویڈیو کی تاحال آزاد ذرائع نے تصدیق نہیں کی ہے اور نہ ہی ترکی کی جانب سے اس پر کوئی ردِعمل ظاہر کیا گیا ہے۔

تاہم ترک فوج نے گزشتہ ماہ یہ اطلاع دی تھی کہ شمالی شام میں موجود اپنے دو سپاہیوں سے اس کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والے دونوں افراد وہی سپاہی ہیں یا نہیں۔

مبینہ طور پر کم ازکم ایک شخص بظاہر وہی ہے جسے ستمبر 2015 میں ایک گروہ نے پکڑا تھا۔

جمعرات کو شب سامنے آنے والی اس ویڈیو کے بارے میں ترک فوج نے فوری طور پر کسی بھی قسم کا ردِ عمل ظاہر نہیں کیا۔

دولتِ اسلامیہ اپنے متعدد آن لائن اکاؤنٹس کے ذریعے ویڈیوز ریلیز کرتی ہے اس کے علاوہ یہ تنظیم میسنجنگ ایپ ٹیلی گرام کا استعمال بھی کرتی ہے۔

اس ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دو مرد جن کا لباس چھپایا گیا ہے کو ایک کھلی جگہ پر سلاخوں سے بنے پنجرے کے پیچھے زنجیر میں باندھ کر رکھا گیا تھا۔

متعدد رپورٹس میں یہ سامنے آیا ہے کہ ترکی میں سوشل میڈیا یعنی ٹوئٹر اور یو ٹیوب تک محدود رسائی ہے تاہم بہت سے صارفین کا کہنا ہے کہ انھیں کبھی کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

رواں ہفتے کے آغاز میں ہی الباب میں ترکی کے 16 فوجی مارے گئے تھے اور اس خطے میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کااروائی کے دوران ترکی کو ہونے والا یہ سب سے بڑا نقصان تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں