تیونس نے انیس عامری کے بھانجے سمیت تین افراد کو حراست میں لے لیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

تیونس میں حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے جرمنی کے شہر برلن میں ٹرک حملہ کرنے والے مشتبہ شخص انیس عامری کے بھانجے اور دو دیگر افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

تیونس کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ تین افراد کو حراست میں لیا گیا جن کی عمریں 18 سے 27 سال کے درمیان ہیں۔ یہ تینوں افراد 'دہشت گرد سیل' کے ممبران تھے اور ان کو رات گئے گرفتار کیا گیا۔

یاد رہے کہ 24 سالہ انیس عامری کو اٹلی کی پولیس نے ملان کے قریب گولیاں مار کر ہلاک کیا تھا۔

برلن میں کیے گئے ٹرک حملے میں 12 افراد ہلاک اور 49 زخمی ہوئے تھے۔

تیونس کی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ انیس کے بھانجے نے اعتراف کیا ہے کہ اس نے چیٹ اپلیکیش ٹیلیگرام کے ذریعے اپنے ماموں انیس سے رابطے کیے تاکہ سکیورٹی حکام کو معلوم نہ چل سکے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے گئے تینوں افراد تیونس سے کچھ فاصلے پر موجود دہشت گرد سیل اور انیس عامری کے آبائی قصبے میں واقع دہشت گرد سیل کے ممبران ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ انیس نے اپنے بھانجے کو رقم بھیجی تاکہ وہ بھی جرمنی آئے اور جہادی گروپ میں شامل ہو اور اپنے بھانجے کو ترغیب دی کہ وہ دولست اسلامیہ کی حمایت کرے۔

دوسری جانب سپین کی انٹیلیجنس سروسز ایک انٹرنیٹ کے ذریعے رابطے کی تحقیقات کر رہے ہیں جو کہ انیس عامری اور سپین کے رہائشی کے درمیان 19 دسمبر کو ہوئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں