کربلا اور نجف توجہ کے طالب

کربلا

گو کہ میں جانتی تو تھی مگر پھر بھی نہ جانے کیوں اپنے بچپن سے سنا ہوا لفظ 'صحرائے کربلا' ہی میرے تصور میں تھا، جب کربلا میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ شہرِ کربلا میں اب اس صحرائے کربلا کے کوئی آثار نہیں، جہاں 1400 برس قبل سن 61 ہجری میں ایسا میدان جنگ سجا تھا جس نے عالم اسلام میں اختلافات کو شدید تر کر دیا۔

بہر حال عالم اسلام میں جو بھی مخاصمتیں ہوں، ایک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ سن اکسٹھ ہجری کی صحرائی قتل گاہ اب ایک ایسی زیارت گاہ میں تبدیل ہوچکی ہے جو دن اور رات کے کسی بھی پہرعقیدت مندوں کے ہجوم سے خالی نہیں ہوتی۔ خصوصاً محرم اور چہلم کے دوران ملک اور بیرون ملک سے آنے والے زائرین ایک سیلاب کی مانند قبر شہدا خصوصاً امام حسین اور ان کے چھوٹے بھائی عباس علمدار کی روضوں کے گرد ہوتے ہیں۔

٭باب العلم کے روضے کے اطراف میں لائبریری نہ ملی

عراق کے کچھ قبائل میں آج تک یہ روایت ہے کہ وہ ہر برس چہلمِ حسین منانے کے لیے نجف سے کربلا تک تقریباً نوے کلومیٹر کا راستہ دو یا تین دن میں پیدل طے کر کے مزار امام پر پہنچتے ہیں۔ اب مقامی قبائل کی پیدل چلنے کی روایت میں باہر سے آنے والے زائرین بھی شامل ہوگئے ہیں۔ جن کی تعداد 20 سے 30 ملین تک بتائی جاتی ہے۔ اور اسے دنیا کا سب سے بڑا امن مارچ کہا جاتا ہے۔

کربلا کا شہر حرم حسین کے ارد گرد بسا ہوا ہے۔ مزار کا سنہری گنبد شہر میں داخل ہوتے ہی دور سے نظر آنے لگتاہے۔

گلیوں میں دھوپ اتری ہوئی تھی زائرین کی خوب آر جار تھی مگر اتنی رونق کے باوجود نجف کے بر عکس یہاں سسکیوں اور اشکوں کے شور سے فضا بوجھل تھی۔

شہر کی سکیورٹی کے بارے میں حکام بہت ہی حساس ہیں۔

ہم لوگ سکیورٹی کے چار حصاروں اور چار بڑے کشادہ نقشین محرابی دروازوں سے گزر کر حرم کے اندرونی حصے میں پہنچے۔

امام حسین کی قبر پر تو عجب ہی سماں تھا۔ خواتین کا بڑاہجوم آہ و بکا میں مصروف تھا جبکہ ایک جم غفیر جالی تک پہنچنے کے لیے ایک دوسرے کو مسلے جا رہا تھا۔

امام حسین کی قبر کے بعد حضرت عباس کی قبر پر، جنھیں قمر بنی ہاشم بھی کہا جا تا ہے، دن رات زائرین کا ہجوم رہتا ہے۔

امام حسین کی قبر اور ان کے بھائی حضرت عباس کی قبر کے درمیان کا راستہ پہلے پختہ نہیں تھا مگر حال ہی میں انتہائی قیمتی چمکتے ہوئے سنگ مرمر سے ایک ایسی گزرگاہ بنائی گئی ہے جو شب کو بھی روشنیوں میں نہائی رہتی ہے۔

اس راستے پر ہمہ وقت زائرین کے گروہ نوحہ خوانی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اکثریت ایرانی مرد و خواتین اور جوانوں کی ہوتی ہے، جو اپنے مخصوص انداز میں نوحہ خوانی اور سینہ کوبی کرتے ہوئے گزرتے ہیں۔

میں نے روضوں کے اطراف میں دن اور رات میں دو چار مرتبہ سکیورٹی کے چاق و چوبند دستے پریڈ کرتے ہوئے گزرتے دیکھے۔ چھوٹی چھوٹی عمروں کے وردی میں ملبوس نوجوان جو بظاہر مسلح نظر نہیں آتے، حرمِ حسین اور حرمِ عباس کے درمیان چکر لگاتے رہتے ہیں۔

کربلا کی بات ہو اور دریائے فرات کا ذکر نہ ہو یہ کیسے ممکن ہے۔ اسلامی تواریخ کے مطابق یہ وہ ہی دریا ہے جس کے کنارے جنگ ہوئی۔

دریائے فرات دیکھ کر کربلا کا واقعہ نگاہوں کے سامنے آگیا مگر سچ پوچھیے تو تصورات کو ذرا سا جھٹکا لگا۔ دریائے فرات شام سے عراق میں داخل ہو کر کربلا تک پہنچتا ہے۔

چودہ صدیوں بعد بھی دریائے فرات شہر کا راستہ تو نہیں بھولا، مگر کربلا آتے آتے اب چھوٹی سی نہر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ جس کے دونوں کناروں پر سمینٹ کے پشتے بنا کر پانی روکا گیا ہے۔ ہاں مگر قریب جانے پر پتہ چلتا ہے کہ دور سے گدلا نظر آنے والا پانی قریب سے بہت ہی صاف اور ٹھنڈا ہے۔

کربلا میں چند دن گزار کر اندازہ ہوا کہ اہل کربلا اور نجف ہیں تو بہت ہی سادہ، منکسرالمزاج لوگ ہیں، مگر یوں لگتا ہے ان کی زندگیاں بس خانوادہِ رسول کے مزاروں کے گرد گھومتی ہے۔

دکانوں، ہوٹلوں اور عمارتوں کے نام کربلا میں شہید ہونے والے شہدا کے ناموں پر ہیں۔ جگہ جگہ امام علی، امام حسن، امام حسین، اور عباس علمدار کی تصوراتی اور کہیں کہیں حزب اللہ کے رہنما حسن نصراللہ اور آیت اللہ خمینی کی اصل تصویریں بھی آویزاں ہیں۔

ایسی تصوراتی تصاویر میں نے ایران میں بھی فروخت ہوتے ہوئے دیکھیں تھیں۔ روضے ہی ان کے سماجی میل ملاپ کا مرکز بھی ہیں۔ رات گئے تک یہاں خوب رونق اور گہما گہمی رہتی ہے۔

روضوں کے اطراف میں رہنے والے پورے پورے خاندان شام کو اپنے اپنے گھروں سے کھانے پینے کی اشیاء لیکر روضوں کے صحنوں اور دالانوں میں چھوٹی چھوٹی دریاں بچھائے کھاتے پیتے نظر آتے ہیں اور رات گئے لوٹتے ہیں۔

بلاشبہ شہر اب بدل رہا ہے، یہاں کا ماحول بدل رہا ہے، کمرشل سرگرمیاں بڑھ رہی ہیں۔ اس سب کے باوجود سچ پوچھیے تو اس شہر کو اس حالت میں دیکھ کر صدمہ ہوا۔ عجب اجڑا اجڑا اور بے ترتیب سا شہر، شیعہ اور سنیوں کی لڑائی میں یہ شہر بار بار اجڑتا ہی رہا۔ مکانوں کی خستگی اور کہنگی نمایاں تھی، شکستہ اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار سٹرکیں، جابجا کوڑے کرکٹ کے ڈھیر۔ بے ترتیب تعمیرات۔

اور شہر بھی کسی اور ملک کا نہیں، عراق جیسے تیل پیدا کرنے والے ملک کا، جس میں حاکموں کے محلات تو ایسے ایسے بنتے رہے کہ ان پر کتابیں کی کتابیں لکھ دی جائیں، لیکن کربلا اور نجف کے عوام حکومت وقت کی توجہ کے طالب ہی رہے۔

ہماری گائیڈ کا کہنا تھا ’آپ پہلے نہیں آئیں یہاں، اب تو آپ ان روضوں اور شہر کو بہت اچھی حالت میں دیکھ رہی ہیں۔‘

اور وہ کچھ غلط بھی نہیں کہہ رہیں تھیں۔ یقیناً صدام حسین کے جانے کے بعد منظر بدل رہے ہیں۔ پہلے روضوں پر

عزاداری کرنے کی اجازت نہیں تھی اور کسی قسم کے ماتمی جلوس نہیں نکالے جاسکتے تھے۔ شہروں میں زائرین کے لیے مناسب سہولتیں نہیں تھیں، مگر اب شعیہ اکثریتی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد حالات بدل چکے ہیں۔ روضوں پر نظر ڈالیں تو مسلسل جاری توسیع اور تزئین و آرائش کا کام جاری ہے۔

مگر عمارات کی شان و شوکت سے نظر ہٹا کر باہر کی جانب دیکھا تو اطراف میں تعلیم سے دور غربت کے بوجھ میں گھرے ہاتھ پھیلائے دور دور تک زائرین کا پیچھا کرتے ہوئے بچے، روضے کے باہر منڈیروں پر بیٹھی حسرت و یاس کی تصویر بنی عورتیں، معمر اور ضعیف مرد سامان کی بھاری بھاری ریڑھیاں گھسٹیتے نظر آتے ہیں۔

شہر میں اتنی کاروباری سرگرمیاں، روضوں کی زینت و زیبائش کے لیے زر کثیر، دنیا بھر سے زائرین سے ملنے والی اربوں ڈالر کی خمس کی رقوم، مگر ان شہروں میں غربت کے مناظر نہ بدل سکے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں