اقوام متحدہ نشستن و گفتن و برخاستن کلب ہے: ٹرمپ

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر اقوامِ متحدہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے 'افسوس ناک' ادارہ قرار دیا ہے۔

انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں لکھا کہ 'اقوامِ متحدہ کے اندر بہت امکانات تھے لیکن اب یہ ایک ایسا کلب بن کر رہ گیا ہے جہاں لوگ آتے، باتیں کرتے اور اچھا وقت گزار کر چلے جاتے ہیں۔ بہت افسوس ناک!'

گذشتہ ہفتے انھوں نے ذاتی طور پر مداخلت کر کے سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف ایک قرارداد ملتوی کروا دی تھی۔ اس قرارداد میں اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے میں بستیاں تعمیر کرنے کے اقدام کی مذمت کی گئی تھی۔

٭ اسرائیل مخالف ووٹ: اسرائیل نے امریکی سفیر طلب کر لیا

اس کے باوجود یہ قرارداد گذشتہ جمعے کو منظور ہو گئی تھی جس پر اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو نے سخت ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے امریکی سفیر کو طلب کر کے احتجاج کیا تھا۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے یہ الزام بھی لگایا تھا کہ اس قرارداد کی تیاری اور اسے منظور کروانے میں امریکہ نے پسِ پردہ کردار ادا کیا ہے۔

امریکہ نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ سلامتی کونسل میں ہونے والی رائے شماری میں قرارداد کے حق میں 14 ووٹ آئے تھے جب کہ امریکہ نے ووٹ نہیں دیا تھا۔

جمعے کو قرارداد کی منظوری کے بعد ٹرمپ نے ٹوئٹر ہی پر کہا تھا کہ '20 جنوری کے بعد حالات بدل ہو جائیں گے۔'

یاد رہے کہ ٹرمپ 20 جنوری کو امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ٹرمپ کی اس ٹویٹ میں اقوامِ متحدہ کی عالمی امن و سلامتی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نظر انداز کر دیا گیا ہے۔ صرف اسی سال اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے 70 قانونی طور پر واجب التعمیل قراردادیں منظور کروائی ہیں، جن میں شمالی کوریا پر پابندیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس نے دنیا بھر میں قیامِ امن کی کوششیں کی ہیں۔ اس دوران جنرل اسمبلی نے بھی درجنوں قراردادیں منظور کی ہیں جن میں ہیروں کی تجارت کا جنگوں میں کردار کے بارے میں قراردادیں اور شام میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے تحقیقات شامل ہیں۔

اسی بارے میں