عراق: بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والی خاتون صحافی اغوا

تصویر کے کاپی رائٹ JFO

عراق میں بڑے پیمانے پر ہونے والی بدعنوانی کے خلاف مہم چلانے والی خاتون صحافی کو مسلح افراد نے اغوا کر لیا ہے۔

عفراہ شعوقی ال قیسی نامی عراقی خاتون صحافی کو بغداد کے ضلعے سعیدیہ میں ان کے مکان سے پیر کی شب خود کو سکیورٹی اہلکار بتانے والے ساتھ لے گئے۔

عراق کے وزیر اعظم حیدر العبادی نے سکیورٹی فورسز کو حکم دیا ہے کہ ’تمام تر کوششیں‘ کر کے خاتون صحافی کو بازیاب کیا جائے۔

پیر کے روز عفراہ نے ایک آرٹیکل لکھا تھا جس میں انھوں نے مسلح گروہوں کی بنا کسی خوف کے کارروائیاں کرنے پر غصے کا اظہار کیا تھا۔

43 سالہ عفراہ لندن میں قائم اخبار عشرق ال اوسط اور کئی دیگر ذرائع ابلاغ کی ویب سائٹس کے لیے کام کرتی ہیں۔

وہ اس کے علاوہ عراق کی وزارت ثقافت کے لیے بھی کام کرتی ہیں۔ عفراہ انسانی حقوق کی سرگرم کارکن بھی ہیں اور حال ہی میں حکومتی بدعنوانی کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں بھی شریک تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ضلعہ سعیدیہ میں سکیورٹی اہلکار عفراہ کی بازیابی کے لیے گاڑیوں کی تلاشی لے رہے ہیں

ان کا یہ آرٹیکل اکلام ویب سائٹ نے شائع کیا تھا۔ اس آرٹیکل میں انھوں نے وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور کہا تھا کہ انھوں نے جنوبی شہر ناصریہ کے ایک سکول کے پرنسپل پر ان کی بیٹی کے ساتھ جھگڑا کرنے والے طالب علم کو سزا دینے سے انکار کرنے پر حملہ کیا تھا۔

عفراہ نے لکھا تھا کہ ’اس ملک میں استاد کی بے عزتی کرنے سے زیادہ برا نہیں ہو سکتا، اسلحہ رکھنے والوں کی جانب سے نظراندازی سے برا کچھ نہیں۔ اگر ریاست اپنی ساکھ قائم رکھنے کے لیے سنجیدہ ہے تو اسے غیر قانونی طور پر اسلحے کا استعمال کرنے والوں کو جوابدہ بنانا چاہیے۔‘

بغداد میں قائم جرنلسٹک فریڈمز آبزرویٹری کے سربراہ زیاد ال عجیلی کا کہنا ہے کہ پیر کے روز مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے عفراہ شعوقی ال قیسی کے گھر آٹھ مسلح افراد آئے جن کا دعوی تھا کہ وہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہیں۔

سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ مسلح افراد سادہ لباس میں ملبوس تھے اور ان کے پاس بنا لائنسس کے پک اپ گاڑی تھی۔

خیال رہے کہ رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کے مطابق عراق صحافیوں کے لیے خطرناک ترین ممالک میں سے ایک ہے اور رواں سال اب تک سات صحافی یہاں مارے جا چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں