برطانیہ: ووٹنگ کےلیے لازمی شناخت کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ PA

برطانیہ کےوزیر آئین کرس سکڈمور نےانتخابات میں بےقاعدگیوں کی شکایات کو ختم کر نے کےلیے ووٹ ڈالتے وقت شناختی دستاویز دکھانے کی شرط سے متعلق ایک تجرباتی منصوبے کا دفاع کیا ہے۔

انگلینڈ میں شہروں کی اٹھارہ کونسلز میں 2018 ہونے والےانتخابات میں اس انتخابی تجربےکو آزمایا جائےگا۔

حکومت نے کہا ہے کہ وہ انتخابی نظام کی ساکھ کو کسی صورت بھی متاثر نہیں دے گی۔

البتہ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ انتخابی بے قاعدگیوں کو ختم کرنے سے متعلق حکومتی اقدام 'ضرروت سے زیادہ' ہے اور اس سے غریب ووٹر متاثر ہوں گے۔

حکومت نے ابھی تک ان کونسلز کا اعلان نہیں کیا ہے جہاں یہ انتخابی تجربہ کیا جائےگا۔البتہ انگلینڈ کےانتخابی کمیشن نےجس اٹھارہ کونسلوں کو نشاندہی کی تھی جہاں ووٹنگ فراڈ کا امکان موجود رہتا ہے، ان میں اکثریت ایسی کونسلوں کی ہے جہاں ایشیائی لوگوں کی بڑی تعداد مقیم ہے۔ ان کونسلوں میں لوٹن، سلوؤ، ووکنگ، کونٹری، اور برسٹل بھی شامل ہیں۔

مختلف کونسلیں ووٹروں کی شناخت کے لیے مختلف دستاویزات جن میں ڈرئیونگ لائسنس، پاسپورٹ اور یوٹیٹلی بل کو دکھانے پر غور کر رہی ہیں۔

شمالی آئرلینڈ میں پہلے ہی ووٹروں کو اپنے حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے اپنی شناخت ظاہر کرنا لازم ہے۔

آئین کے وزیر سکڈمور نے کہا کہ برطانیہ میں کسی قسم کی انتخابی بدعنوانی قابل قبول نہیں ہے۔انھوں نے ان خدشات کو رد کیا کہ ووٹروں کی شناخت سے متعلق متعارف کرائے جانے والے منصوبے میں لوگوں کو ان کے حق رائے دہی کے حق سے محروم ہو جائیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برمنگھم بھی ان شہروں میں شامل ہیں جن کی نشاندہی انگلینڈ الیکٹول کمیشن نے کی تھی

برطانیہ میں انتخابی اصلاحات کی تجویز سب سے پہلے سابق وزیر سر ایرک پکلز نے پیش کی تھی۔ ایرک پیکلز نے اپنے ایک ٹوئٹر پیغام میں حکومتی اقدام کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی اہلکاروں کو زیادہ اختیارات دینے کا فیصلہ درست ہے۔

سر ایرک پکلز نے ریسرچ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستانی اور بنگلہ دیشی کمیونٹی کےعلاقوں میں انتخابی دھاندلی کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔

انھوں نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بعض گروہ اپنی روایات اور برادری کی وجہ سے انفرادی سے زیادہ اجتماعی مفادات کو ترجیج دیتے ہوئے اپنے ووٹ کسی اور کے حوالے کر سکتے ہیں۔

برطانیہ کے وزیر آئین نے ان خدشات کو رد کیا ہے کہ اس انتخابی تجربےمیں کسی خاص طبقے کو ٹارگٹ کیا جائے گا۔

لیبر پارٹی اصولی طور پر اس منصوبے کی حمایت کرتی ہے لیکن لیبر پارٹی کے بعض ممبران کو اس منصوبے کے بارے تحفظات بھی ہیں۔

اسی بارے میں