اقوام متحدہ کی قرارداد سے متعلق کیری کا بیان، نتن یاہو برہم

نتن یاہو تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو نے اسرائیل کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظور کی جانے والی قرار داد پر امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کے دفاعی بیان پر تنقید کرتے ہوئے اسے شدید مایوس کن قرار دیا ہے۔

بدھ کو سرکاری ٹی وی سے خطاب کرتے ہوئے اسرائیل کے وزیراعظم نے کہا کہ ’ایک ایسا وقت جب یہ خطہ شعلوں کی زد میں ہے، اسرائیل سے متعلق جان کیری کا بیان بہت تشویشناک ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’پورے ایک گھنٹے تک امریکی وزیرِ خارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں موجود واحد جموری ریاست پر حملہ کیا۔‘

وزیراعظم نتن یاہو نے جان کیری پر یہ الزام بھی لگایا کہ انھوں نے اسرائیلی بستیوں پر زیادہ اور فلسطین کی جانب سے تشدد اور اشتعال انگیزی کی تربیت پر کم توجہ دی۔

خیال رہے کہ امریکی سیکریٹری خارجہ جان کیری نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف منظور کی جانے والی حالیہ قرار داد پر ہونے والے رائے شماری میں امریکی عدم شرکت کا دفاع کیا تھا اور کہا ہے کہ یہ اقدام امریکی اقدار کے عین مطابق تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہودی آبادکاری کے تنازع کے باعث امریکہ اور اسرائیل میں بھی کشیدگی پائی جاتی ہے

بدھ کو وائٹ ہاؤس میں اپنے خطاب کے دوران انھوں نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف منظور کی جانے والی حالیہ قرارداد کے بعد اوباما انتظامیہ کے بارے میں اسرائیل کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کا جواب دیا۔

جان کیری نے اپنی تقریر کے دوران فلسطین اور اسرائیل کے درمیان قیام امن کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ برسوں میں ہماری بے حد کوششوں کے باوجود دو ریاستوں پر مبنی حل اب سنگین خطرے میں ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ مستقبل کے امن معاہدے کو اسرائیل کی موجودہ پالیسوںنے خطرے میں ڈال دیا ہے اور یہ نہ اسرائیل، فلسطین اور امریکہ کے مفادات کے لیے اچھا ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ہم ٹھیک طرح سے اسرائیل کا تحفظ اور دفاع نہیں کر سکتے اگر ہماری آنکھوں کے سامنے قابل عمل دو ریاستی حل کو نقصان پہنچایا جائے۔

انھوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں منظر ہونے والے قرارداد کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ' قرارداد میں کہا گیا ہے کہ بستیوں کے قیام کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور دو ریاستوں کے قیام کے حل، جامع اور پائیدار امن کے قیام کر راہ میں ایک بڑی رکاؤٹ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جان کیری نے کہا ہے کہ وہ یہاں یہ بھی بتانے آئے ہیں کہ اب بھی آگے بڑھا جا سکتا ہے اگر فریقین ایسا کرنے پر آمادہ ہو۔

انھوں نے کہا ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان پائیدار امن دو ریاستوں پر مبنی حل سے قائم ہو سکتا ہے۔

انھوں نے اسرائیل کی سکیورٹی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی سکیورٹی کے لیے جتنا کچھ اوباما انتظامیہ نے کیا ماضی میں کسی بھی امریکی حکومت نے نہیں کیا۔

جان کیری نے کہا ہے کہ 'اسرائیلی وزیراعظم نے خود ہماری غیر معمولی فوجی اور انٹیلیجنس تعاون کا اعتراف کیا ہے۔ ہماری فوجی مشقیں ماضی کے مقابلے میں بہت اعلیٰ سطح پر جا چکی ہیں۔ دفاعی نظام آئرن ڈوم میں ہماری مدد نے لاتعداد اسرائیلیوں کی جانیں بچائی ہیں۔ ہم نے تسلسل سے اسرائیل کے اپنے دفاع کے حق کی حمایت کی، جس میں اس کی غزہ میں کارروائی کے دوران بھی حمایت کی جس سے ایک بڑا تنازع بھی پیدا ہوا تھا۔'

اوباما انتظامیہ نے چند دن قبل سلامتی کونسل میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے بارے میں پیش کی جانے والی قرارداد کو نہ صرف ویٹو نہیں کیا تھا بلکہ ووٹنگ میں حصہ بھی نہیں لیا تھا۔ اوباما انتظامیہ کے اس اقدام کے بعد اسرائیل نے امریکہ پر شدید تنقید کی ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ اس قرار داد کے منظور کیے جانے میں امریکہ نے پس منظر میں کردار ادا کیا ہے۔

یاد رہے کہ ابتدا میں فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں یہودیوں بستیوں کی تعمیر کے خلاف مصر نے قرار داد پیش کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد مصر نے اپنی قرارداد موخر کر دی تھی۔ اس کے بعد نیوزی لینڈ، وینزویلا، سینیگال اور ملائیشیا نے یہ قرار داد پیش کی جسے سلامتی کونسل میں بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔

اسرائیل نے قرار داد کے حق میں ووٹ دینے والے ملکوں سے اپنے تعلقات میں سرد مہری برتنے کے بھی اشارے دییے ہیں۔

ماضی میں امریکہ نے سلامتی کونسل میں اسرائیل مخالف قراردادوں کو ویٹو کر کے اس کی مدد کرتا رہا ہے۔ تاہم اوباما انتظامیہ نے روایتی امریکی پالیسی ترک کر کے اس مرتبہ اس قرارداد کو منظور ہونے دیا تھا۔

سلامتی کونسل کے 15 رکن ممالک میں سے 14 نے اس قرارداد کی حمایت میں ووٹ ڈالے جبکہ امریکہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا، تاہم اس نے اس موقعے پر قرارداد کے خلاف ویٹو کا حق بھی استعمال نہیں کیا۔

دوسری جانب اسرائیل میں بیت المقدس (یروشلم) کے میونسپل حکام کے مطابق سٹی ہال نے اسرائیلیوں کے لیے مشرقی یروشلم میں 500 کے قریب نئے گھروں کی تعمیر کے حوالے سے ووٹنگ منسوخ کر دی ہے۔

یروشلم ہلاننگ اینڈ ہاؤسنگ کمیٹی کے رکن حنان روبن کا کہنا ہے کہ صدر بن یامین نتن یاہو نے اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption جمعے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے مجوزہ آبادی کو روکنے مطالبہ کیا تھا

حنان روبن کا کہنا تھا کہ'نئی تعمیرات کے پرمٹس پر ووٹنگ جان کیری کے خطاب کی وجہ سے کمیٹی کے ایجنڈے سے ہٹا دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ 'وزیراعظم یروشلم میں تعمیرات کی حمایت کرتے ہیں لیکن وہ صورتحال کو مزید بگاڑنا نہیں چاہتے۔'

حنان روبن کے مطابق کمیٹی کا اجلاس معمول کے مطابق ہوتا رہتا ہے اور اس حوالے سے جلد فیصلہ کیا جاسکتا ہے۔

حنان روبن کا کہنا تھا کہ سنہ 1967 کی جنگ کے دوران اسرائیل کے قبضے میں آنے والے اور یروشلم میں شامل کیے جانے شہری علاقوں میں اسرائیلیوں کے لیے 492 گھروں کے پرمٹ کی منظوری دی جائے گی۔

یاد رہے کہ سلامتی کونسل میں یہ قرارداد مصر کی جانب سے پیش کی گئی تھی تاہم امریکی نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مداخلت کے بعد مصر نے اسے موخر کر دیا تھا۔ اس کے بعد سلامتی کونسل کے دیگر ممالک نیوزی لینڈ، سینیگال، وینزویلا اور ملائیشیا نے اس قرارداد کو دوبارہ پیش کیا اور اسے منظور کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں