ایران کی حمایت سے شام میں جنگ بندی پر اتفاق: ترکی میڈیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ترکی کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق ترکی اور روس نے شام میں جنگ بندی کی شرائط پر اتفاق کر لیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اندالو نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی رات بارہ بجے جی ایم ٹی سے لاگو ہو گا۔

مزید تفصیلات دیے بغیر ذرائع نے بتایا ہے کہ اس معاہدے میں شدت پسند تنظیمیں شامل نہیں ہوں گی۔ شامی حکومت اور حزبِ اختلاف نے اس معاہدے کے بارے میں اب تک کوئی بیان نہیں دیا۔

تفصیلات کے مطابق شامی صدر بشار الاسد کا حمایتی روس اور باغیوں کی امداد میں پیش پیش ترکی نے پچھلے ہفتے اعلان کیا تھا کے وہ شام میں امن قائم کرنے کی شرائط طے کرنے لیے راضی ہیں۔ اس فیصلے میں ان دونوں کو ایران کی بھی حمایت حاصل تھی۔

اندالو کے مطابق اگر اس مجوزہ جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد ہو جاتا ہے تو مذاکرات قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقد ہوں گے جس میں روس اور ترکی ضامن کا کردار ادا کریں گے۔

اس سے قبل دسمبر میں ہی دونوں ممالک نے حلب میں جنگ بندی کا معاہدہ طے کیا تھا جس کے بعد ہزاروں کی تعداد میں باغی فوج اور شہریوں کا مشرقی حلب سے انخلا ہوا تھا۔

اس مسئلے کے سیاسی حل کے لیے اقوامِ متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے مذاکرات کا آخری راؤنڈ اپریل میں ختم ہو گیا تھا جب امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والا جنگ بندی کا معاہدہ قائم نہ رہ سکا۔

منگل کے روز روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے خبر رساں ادارے انٹر فیکس کو بتایا کے شامی حکومت حزبِ اختلاف سے قزاقستان میں ہونے والے ممکنہ امن مذاکرات کے بارے میں گفتگو کر رہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

انھوں نے یہ نہیں بتایا کے کون کون سی جماعتیں حکومت سے بات کر رہی ہیں لیکن شام میں حزب ِ اختلاف کی نمائندگی کرنے والا گروپ ہائی نگوسی ایشن کمیٹی (ایچ این سی) نے کہا کے انھیں اس بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ ایچ این سی کے کو آرڈینیٹر ریاد حجاب نے کہا کے وہ ان کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

دریں اثنا دیر الزور نامی صوبے میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے زیر قبضہ گاؤں میں 10 بچوں سمیت 22 شہری ایک فضائی حملے میں ہلاک ہو گئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں