شام میں جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد شروع

حلب تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شام میں 2011 سے جاری جنگ میں کم از کم تین لاکھ افراد ہلاک اور چالیس لاکھ گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں

شام کی حکومت اور فری سیرئین آرمی کے باغیوں کے مابین طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد شروع ہو گیا ہے۔

اس معاہدہ میں شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ اور جبۃ الفتح الشام جو پہلے النصرہ کے نام سے جانی جاتی تھی، شریک نہیں ہیں۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے ماسکو میں جنگ بندی کے معاہدے کا اعلان کیا جس کی تصدیق ترکی کی وزارت خارجہ نے بھی کی ہے۔

روس اور ترکی جو شام میں مختلف متحارب گروہوں کی حمایت کرتے ہیں، اس معاہدے کے ضامن ہیں۔

شام میں حزب ِ اختلاف کی نمائندگی کرنے والے گروپ ہائی نگوسی ایشن کمیٹی (ایچ این سی) نے بھی جنگ بندی کے معاہدے کی تصدیق کی ہے۔

شام کی فوج کی جانب سے جاری ہونےوالے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ جبۃ الشام اور نام نہاد شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ جنگ بندی کے معاہدے میں شریک نہیں۔

فری سیرئین آرمی کے ترجمان اسامہ ابو زید نے کہا کہ کردش پاپولر پروٹیکشن یونٹس (وائی پی جی) جنگ بندی کے اس معاہدے میں شریک نہیں ہے۔ وائی جے پی دیگر کرد گروہوں کی مدد سے شمالی شام کے بڑے حصے پر قابض ہے۔

ترکی وائی پی جے کو ایک دہشتگرد تنظیم قراردیتا ہے جو اس کے مطابق کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے ) کی ایک شاخ ہے۔

جنگ بندی کا یہ معاہدہ دمشق کے نزدیک غوطہ کے قریب باغیوں کےزیر قبضہ علاقے میں نافذ العمل ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تیرہ مسلح گروہوں نے جنگ بندی کےمعاہدے پر دستخط کیے ہیں: اوسامہ ابو زید

ہائی نگوسی ایشن کمیٹی (ایچ این سی) کے ترجمان اسامہ ابو زید نے کہا ہے کہ تیرہ مسلح گروہوں نے جنگ بندی کےمعاہدے پر دستخط کیے ہیں۔

شام میں 2011 سے شروع جنگ میں کم از کم تین لاکھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ چالیس لاکھ سے زیادہ افراد ملک چھوڑنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

رواں ماہ کے اوائل میں روس اور ترکی کی کوششوں سے حلب میں جنگ بندی کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے تحت دسیوں ہزار شہری اور ہزاروں باغی مشرقی حلب سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

شام کے بارے میں اقوام متحدہ کے نمائندے سٹیفن ڈی مستورا نے جنگ بندی کے نئے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے قیمتی جانیں بچیں گی اور امدادی سامان کی فراہمی اور امن مذاکرات کی راہ ہموار ہو سکے گی۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے جنگ بندی کےمعاہدے کا اعلان کرتے ہوئےکہا کہ یہ جنگ بندی 'نازک' ہے لیکن اس امید کا اظہار کہ اس سے امن مذاکرات شروع کرنے میں مدد ملے گی۔

معاہدے کی رو سے ایک ماہ کے اندر قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں امن مذاکرات کا انعقاد کیا جائے گا جس میں روس اور ترکی ضامن کا کردار ادا کریں گے۔

روسی صدر نے بتایا کہ انھوں نے شام میں روسی فوج کی تعداد میں کمی کی تجویز منظور کر لی ہے۔ صدر پوتن نے واضح کیا کہ روس شام کی حکومت کی حمایت اور عالمی دہشتگردوں کے خلاف جنگ جاری رکھے گا۔

صدر پوتن نے کہاکہ تین دستاویزات پر دستخط کیے گئےجن میں ایک معاہدہ شامی حکومت اور حزب اختلاف کے گروہوں کےمابین ہے جبکہ دوسری دستاویز معاہدے پر عمل درآمد کی نگرانی سے متعلق ہے۔ تیسری دستاویز امن مذاکرت شروع کرنے سے متعلق ہے۔

اسی بارے میں