سلامتی کونسل میں شام میں جنگ بندی کے معاہدے کی توثیق

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption معاہدے کے بعد دمشق کے قریب باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں بچوں نے خوشی کا اظہار کیا

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے روس کی کوششوں سے ہونے والے امن معاہدے اور تنازع کے حل کے لیے شامی حکومت اور باغی گروپ میں امن مذاکرات کے منصوبے کی توثیق کر دی ہے۔

سلامتی کونسل نے ملک بھر میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں ضروری امدادی اشیاء بشمول خوارک اور ادویات کی فوری ترسیل پر بھی زور دیا ہے۔

شام میں جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد شروع

اس سے قبل شام کے بڑے باغی گروپ کی طرف سے دھمکی دی گئی تھی کہ اگر گرنچ کے معیاری وقت کے مطابق شام چھ بجے تک ان پر حکومتی افواج کی جانب سے بمباری کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ جنگ بندی کے معاہدہ کو ختم کر دیں گے۔

انھوں نے سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس وقت تک جنگ بندی کے معاہدے کی توثیق نہ کریں جبکہ بمباری کا سلسلہ بند نہیں ہو جاتا۔

فری سیرین آرمی کی طرف سے یہ دھمکی روس کو دی گئی تھی اور یہ خبریں آ رہی تھیں کہ دمشق کے قریب باغیوں کے زیر قبضہ وادی برادا پر حکومتی فوجوں کی طرف سے شدید بمباری جاری ہے جو کہ فری سرئین آرمی کے بقول جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

جنگ بندی جو چوبیس گھنٹے پہلے جمعہ کو طے پائی تھی اس کی اکثر علاقوں میں پاسداری کی گئی۔

جنگ بندی کا معاہدے ملک بھر میں نافذ العمل ہے سوائے ان علاقوں کے جو جہادی گروپ نام نہاد دولت اسلامیہ ، جہد فتح الشام اور کرد وائے پی جے ملیشیا کے زیر قبضہ ہیں۔

سلامتی کونسل میں ویٹو کا حق رکھنے والے مستقل ارکان کے درمیان شام کے بارے میں اختلافات کے باوجود سلامتی کونسل میں اس معاہدے کی توثیق کی گئی ہے۔ روس کی حکومت بشار الاسد کی عملی طور پر مدد کر رہی ہے جب کہ فرانس، برطانیہ اور امریکہ کا اثرار رہا ہے کہ صدر اسد کسی بھی معاہدے کی صورت میں اقتدار سے عیلحدہ ہوں۔

روس اور ترکی بھی اس تنازع میں مختلف گروپوں کی حمایت اور مدد کرتے رہے ہیں۔

اسی بارے میں