استنبول: حملہ آور کی تلاش جاری، ’دہشت گرد افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
نئے سال کی تقریبات کے موقعے پر استنبول کو پھر نشانہ بنایا گیا ہے

ترکی کے صدر طیب اردوغان نے استنبول کے نائٹ کلب پر حملے کو 'وحشیانہ' قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گرد شہریوں کو نشانہ بنا کر ہمارے حوصلے پست کر کے ملک میں افراتفری پھیلانا چاہتے ہیں۔

ادھر استنبول کی پولیس کہا کہنا تھا کہ سنیچر اور اتوار کی درمیانی رات نائٹ کلب پر حملہ کرنے والے شخص کی تلاش جاری ہے۔

وزیر اعظم بن علی یلدرم نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ حملہ آور کلب میں شور شرابے اور افراتفری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی بندوق پھینک کر وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔ وزیر اعظم نے ان اطلاعات کی تردید بھی کی کہ حملہ آور سانتا کلاز کا روپ دھارا ہوا تھا۔

ترکی کے وزیر داخلہ نے کہا ہے کہ حملے میں مرنے والوں کی تعداد اب 39 ہو گئی ہے جن میں 16 غیرملکی باشندے بھی شامل ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کے علاوہ 69 افراد ہسپتالوں میں زیر اعلاج ہیں جبکہ پولیس ابھی تک حملہ آور کی تلاش میں ہے۔

استنبول کے رینا نائٹ کلب پر حملے کی تصاویر

کیا ترکی کے تاریک دن لوٹ آئے؟

ترکی کے حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں میں اسرائیل، سعودی عرب، مراکش، لبنان اور لیبیا کے شہری شامل ہیں۔

استنبول کے گورنر واصب شاہین کا کہنا تھا کہ حملے میں ایک پولیس اہلکار بھی ہلاک ہوا ہے اور یہ ایک 'دہشت گرد' حملہ تھا۔

گورنر نے کہا کہ اس حملے کا ذمہ دار ایک شخص تھا۔

سکیورٹی گارڈ

اطلاعات کے مطابق نائٹ کلب پر حملے میں ہلاک ہونے والوں میں فتح نامی سکیورٹی گارڈ بھی شامل ہیں جو تین ہفتے قبل سٹیڈیم میں ہونے والے یکے بعد دیگرے دو دھماکوں میں بچ گئے تھے۔

نائٹ کلب پر حملے میں سب سے پہلے نشانہ بننے والوں میں فتح تھے۔ وہ تین ہفتے قبل بیشک تاش سٹیڈیم میں سکیورٹی کی ڈیوٹی پر مامور تھے جب پہلے ایک کار بم دھماکہ ہوا اور پھر خود کش حملہ ہوا۔

اس سے قبل رینا نائٹ کلب میں جائے وقوعہ پر موجود گورنر واصب شاہین نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ 'دور تک نشانہ لگانے والے اسلحے سے لیس ایک دہشت گرد نے ظالمانہ اور بے رحم فائرنگ سے معصوم لوگوں کو نشانہ بنایا، جو صرف سال نو کی خوشی اور تفریح کے لیے آئے تھے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption رینا نائٹ کلب فاسفورس پل کے یورپی جانب واقع ہے

خیال رہے کہ رینا نائٹ کلب فاسفورس پل کے یورپی جانب واقع ہے۔

اطلاعات کے مطابق حملے کے وقت نائٹ کلب میں 700 افراد موجود تھے اور کچھ افراد نے حملے کے وقت جان پچانے کے لیے آبنائے بوسفورس میں چھلانگ لگا دی۔

خیال رہے کہ استبول میں سال نو کے موقع پر دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ تھا اور شہر میں تقریباً 17 ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی پرتعینات تھے۔

حالیہ چند ماہ میں ترکی میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور کرد باغیوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

حال ہی میں ترکی میں روسی سفیر اندرے کرلوف کو ایک ترک پولیس اہلکار مولود مرت التنتاش نے انقرہ میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

ٹی وی پر دکھائی جانے والے ویڈیوز میں استنبول کے علاقے بشیکتاس میں واقع رینا نائٹ کلب کے باہر ایمولینسوں اور پولیس کی گاڑیوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔

خیال رہے کہ استبول میں سال نو کے موقع پر دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ تھا اور شہر میں تقریبا 17 ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی پرتعینات تھے۔

حالیہ چند ماہ میں ترکی میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور کرد باغیوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

حال ہی میں ترکی میں روسی سفیر اندرے کرلوف کو ایک ترک پولیس اہلکار مولود مرت التنتاش نے انقرہ میں ایک تقریب کے دوران فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے ہوا

ترکی میں ہونے والے حالیہ حملے

  • دس دسمبر: استبول میں ایک فٹبال سٹیڈیم کے باہر دو دھماکوں میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہوگئے تھے، اس حملے کی زمہ داری کرد عسکریت پسند گروہ نے قبول کی تھی۔
  • 20 اگست: غازی عینتاب شہر میں ایک شادی کی تقریب میں بم دھماکے میں کم از کم 30افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے میں مشتبہ طور پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ملوث تھی۔
  • 30 جولائی: 35 کرد باغی جنھوں نے ایک فوجی اڈے میں داخل ہونے کی کوشش کی انھیں ترک فوج نے ہلاک کر دیا۔
  • 28 جون: استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر بم حملے اور فائرنگ سے کم از کم 41 افراد ہلاک ہوگئے اور اس حملے کا الزام دولت اسلامیہ پر عائد کیا جاتا ہے۔
  • 13 مارچ: انقرہ میں کرد باغیوں کی جانب سے کیے گئے ایک خودکش کار بم دھماکے میں کم از کم 37 افراد ہلاک ہوگئے۔
  • 17 فروری: انقرہ میں ایک فوجی قافلے پر ہونے والے حملے میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہوئے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی میں حالیہ دنوں میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور کرد باغیوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں