استنبول کے نائٹ کلب پر حملہ: داعش نے ذمہ داری قبول کر لی

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ترکی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کا کہنا ہے کہ ترکی میں سالِ نو کے موقع پر نائٹ کلب پر ہونے والے حملے میں وہ ملوث ہیں۔ اس حملے میں غیر ملکیوں سمیت 39 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دولتِ اسلامیہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ حملہ اُن کے ’ایک سپاہی‘ نے کیا۔

ترکی کے رینا نائٹ کلب میں سالِ نو کے موقعے پر کم از کم 600 افراد موجود تھے کہ اچانک ایک مسلح شخص نے اندر داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی۔

یاد رہے کہ گذشتہ کچھ عرصے کے دوران ترکی میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

دوسری جانب نائٹ کلب پر ہونے والے حملے کی مزید تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ ترکی کے میڈیا کے مطابق مسلح حملہ آور نے 180 گولیاں چلائیں۔

ادھر ترکی میں حکام نائٹ کلب پر حملے کرنے والے مسلح شخص کی تلاش میں مصروف ہیں مسلح شخص فائرنگ سے پھیلنے والی افراتفری کے دوران فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔

ترکی میں حکام کو شبہ تھا کہ اس حملے میں اسلامی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ ملوث ہے۔

ملک کے صدر رجب طیب اردوغان نے حملے کے بعد کہا کہ یہ گروہ ملک میں 'افراتفری پھیلانا' چاہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'وہ ہمارے شہریوں کو نشانہ بنا کر ہمارے حوصلے پست کرنا چاہتے ہیں اور ملک کو عدم استحکام سے دوچار کرنا چاہتے ہیں۔'

اس سے پہلے ترکی کے وزیر داخلہ نے تصدیق کی تھی کہ مفرور حملہ آور کی تلاش کے لیے پولیس کا آپریشن جاری ہے۔ انھوں نے جلد حملہ آور کے پکڑے جانے کی امید ظاہر کی تھی لیکن حملہ آور کی تلاش تاحال جاری ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption یہ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات ڈیڑھ بجے ہوا

دوسری جانب رینا نائٹ کلب حملے میں ہلاک ہونے والے کچھ افراد کی آخری رسومات ادا کر دی گئی ہیں۔

ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ کلب میں سات منٹ تک جاری رہنے والی فائرنگ سے ہلاک ہونے والوں میں نصف افراد غیر ملکی ہیں۔

ہلاک ہونے والے غیر ملکیوں کا تعلق اسرائیل، فرانس، تیونس، لبنان، انڈیا، اردن اور سعودی عرب سے ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں 69 زخمی زیرِ علاج ہیں جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔

خیال رہے کہ استنبول میں سال نو کے موقع پر دہشت گردی کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ تھا اور شہر میں تقریباً 17 ہزار پولیس اہلکار ڈیوٹی پرتعینات تھے۔

ترکی میں ہونے والے حالیہ حملے

  • دس دسمبر: استنبول میں ایک فٹبال سٹیڈیم کے باہر دو دھماکوں میں کم از کم 44 افراد ہلاک ہوگئے تھے، اس حملے کی زمہ داری کرد عسکریت پسند گروہ نے قبول کی تھی۔
  • 20 اگست: غازی عینتاب شہر میں ایک شادی کی تقریب میں بم دھماکے میں کم از کم 30افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ اس حملے میں مشتبہ طور پر شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ ملوث تھی۔
  • 30 جولائی: 35 کرد باغی جنھوں نے ایک فوجی اڈے میں داخل ہونے کی کوشش کی انھیں ترک فوج نے ہلاک کر دیا۔
  • 28 جون: استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے پر بم حملے اور فائرنگ سے کم از کم 41 افراد ہلاک ہوگئے اور اس حملے کا الزام دولت اسلامیہ پر عائد کیا جاتا ہے۔
  • 13 مارچ: انقرہ میں کرد باغیوں کی جانب سے کیے گئے ایک خودکش کار بم دھماکے میں کم از کم 37 افراد ہلاک ہوگئے۔
  • 17 فروری: انقرہ میں ایک فوجی قافلے پر ہونے والے حملے میں کم از کم 28 افراد ہلاک ہوئے۔
تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ترکی میں حالیہ دنوں میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ اور کرد باغیوں کی جانب سے حملوں میں اضافہ ہوا ہے

اسی بارے میں