کوریا: صدارتی سکینڈل سے منسلک خاتون کی بیٹی گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جنوبی کوریا کی پولیس کی کہنا ہے کہ ملک میں صدارتی سکینڈل سے منسلک خاتون کی بیٹی کو ڈنمارک میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

بیس سالہ چنگ یوُ را پر الزام ہے کہ وہ ڈنمارک میں غیر قانونی طور پر رہائش پذیر تھی۔

پولیس کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان کو جنوبی کوریا لانے کے لیے درخواست کر دی ہے۔

ان کی والدہ پر الزام ہے کہ انھوں نے صدر پارک گن سے اپنی دوستی کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا۔

دونوں خواتین نے اس بات پر معافی مانگی ہے لیکن دونوں ہی ان الزامات کی تردید کرتی ہیں۔

کئی ہفتوں تک جاری رہنے والے احتجاجی مظاہروں کے بعد جنوبی کوریا کی پارلیمنٹ نے نو دسمبر کو مس پارک کے مواخدے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

چنگ یورا کا کوریا کی ٹاپ یونیورسٹی میں داخلہ بھی ان الزامات میں سے ایک ہے جس کا ان کی والدہ سامنا کر رہی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صدر پارک گن کے ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی سہیلی کی دوستی کے لیے اپنے صدارتی عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے چنگ کے یونیورسٹی میں داخلے کو یقینی بنایا۔

جنوبی کوریا کے حکام نے مس چنگ کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے مدد طلب کی تھی، جو ملک کی قومی گھوڑسوار ٹیم کی رکن ہیں اور سکینڈل میں اپنے کردار کے بارے میں سوالوں کے جواب دینے کے حکام کو دستیاب نہ ہو سکی تھیں۔

ان کی والدہ مس چوئی اس وقت حراست میں ہیں۔ ان کو تفتیش کے لیے بیرونِ ملک سے گرفتار کر کے جنوبی کوریا لایا گیا تھا۔

وہ اختیارات کے غلط استعمال اور فراڈ کی سازش سمیت متعدد الزامات کا سامنا کر رہی ہیں۔

جنوبی کوریا کی اعلیٰ عدالت کے پاس چھ ماہ کا عرصہ ہے جس میں اسے یا تو صدر پارک گن کے خلاف مواخذے کی تصدیق کرنا ہے یا اسے مسترد کر دینا ہے۔

اس وقت وہ ملک کی صدر تو رہیں گی لیکن ان کے پاس صدارتی اختیارات نہیں ہوں گے۔ یہ اختیارات ان کے نامزد کردہ وزیر اعظم کو منتقل ہو گئے ہیں۔

اسی بارے میں