شامی باغیوں کی امن مذاکرات کے بائیکاٹ کی دھمکی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY

شام کے باغی گروہوں نے رواں ماہ روس اور ترکی کی کوششوں سے ہونے والے امن مذاکرات کے لیے کی جانے والی تمام تر تیاریوں میں شرکت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

باغی گروہوں کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں شامی حکومت کی طرف سے ’کئی اور بڑے پیمانے پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں‘ کو اس اقدام کی وجہ قرار دیا گیا ہے۔

امن مذاکرات رواں ماہ قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں ہونے ہیں۔

سلامتی کونسل میں شام میں جنگ بندی کے معاہدے کی توثیق

شام میں جنگ بندی کے معاہدے پر عملدرآمد شروع

شام کے باغیوں گروہوں کی جانب سے پیر کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’حکومت اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے مسلسل فائرنگ اور بڑے پیمانے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا سلسلہ جاری ہے۔‘

بیان کے مطابق: ’جیسا کہ یہ خلاف ورزیاں جاری ہیں، باغی گروہ آستانہ مذاکرات سے جڑی تمام بات چیت کے عمل کو معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔‘

یاد رہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے روس کی کوششوں سے ہونے والے امن معاہدے اور تنازع کے حل کے لیے شامی حکومت اور باغی گروپ میں امن مذاکرات کے منصوبے کی توثیق کر دی تھی۔

سلامتی کونسل نے ملک بھر میں جنگ سے متاثرہ علاقوں میں ضروری امدادی اشیاء بشمول خوارک اور ادویات کی فوری ترسیل پر بھی زور دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption معاہدے کے بعد دمشق کے قریب باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں بچوں نے خوشی کا اظہار کیا

اس سے قبل شام کے بڑے باغی گروپ کی طرف سے دھمکی دی گئی تھی کہ اگر گرنچ کے معیاری وقت کے مطابق شام چھ بجے تک ان پر حکومتی افواج کی جانب سے بمباری کا سلسلہ بند نہ ہوا تو وہ جنگ بندی کے معاہدہ کو ختم کر دیں گے۔

انھوں نے سلامتی کونسل سے بھی مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس وقت تک جنگ بندی کے معاہدے کی توثیق نہ کریں جبکہ بمباری کا سلسلہ بند نہیں ہو جاتا۔

فری سیرین آرمی کی طرف سے یہ دھمکی روس کو دی گئی تھی اور یہ خبریں آ رہی تھیں کہ دمشق کے قریب باغیوں کے زیر قبضہ وادی برادا پر حکومتی فوجوں کی طرف سے شدید بمباری جاری ہے جو کہ فری سرئین آرمی کے بقول جنگ بندی کے معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

جنگ بندی جو چوبیس گھنٹے پہلے جمعہ کو طے پائی تھی اس کی اکثر علاقوں میں پاسداری کی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں