حلب پر بمباری جائز تھی: بشار الاسد

حلب تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption چھ سالہ جنگ کے حلب کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر لیا ہے

شامی صدر بشار الاسد نے کہا ہے کہ مشرقی حلب پر حملہ جائز تھا۔ شام کی سرکاری فوج نے گذشتہ ماہ حلب کو باغیوں کے قبضے سے چھڑا لیا تھا۔

انھوں نے فرانسیسی میڈیا کو بتایا: 'بعض اوقات یہ قیمت بھگتنا پڑتی ہے۔ لیکن انجامِ کار لوگوں کو دہشت گردوں کے چنگل سے رہا کر لیا گیا۔‘

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگ کے آخری دنوں میں حکومت اور اس کے حامیوں کی جانب سے شہری علاقوں پر فضائی حملے ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔

روس بھی شامی حکومت کے ساتھ مل کر 2015 سے باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔

ترکی کے ہمراہ روس نے ملک میں عارضی جنگ بندی کروا رکھی ہے جو دونوں طرف سے خلاف ورزی کے دعووں کے باوجود ابھی تک قائم ہے۔

دونوں ملک اور ایران امن مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں جو ممکنہ طور پر اس ماہ کے اواخر میں قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقد ہوں گے۔

برطانیہ میں قائم آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق حلب پر غلبے کی جھڑپوں میں گذشتہ پانچ برسوں میں تقریباً ساڑھے 21 ہزار عام شہری مارے گئے ہیں۔

فرانسیسی میڈیا سے بات کرتے ہوئے شامی صدر بشار الاسد نے مشرقی حلب میں ہونے والی تباہی اور شہریوں کی ہلاکتوں کو 'ہم شامیوں کے لیے تکلیف دہ' قرار دیتے ہوئے کہا کہ 'ہر جنگ بری ہوتی ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption 50 ہزار سے زیادہ لوگ حلب میں پھنس کر رہ گئے تھے

تاہم انھوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ان شہریوں کو باغیوں کے جبر تلے چھوڑ دینا بہتر تھا؟

حکومتی بمباری کے دوران باغیوں کے زیرِ قبضہ چند علاقوں میں ہزاروں شہری پھنس کر رہ گئے تھے۔

باغیوں نے تین ہفتے قبل ایک معاہدے کے تحت ہتھیار ڈال دیے تھے جس کے تحت شہریوں کو وہاں سے نکلنے اور باغیوں کو ملک کے شمال میں واقع باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں تک جانے کی اجازت دے دی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ہر جنگ بری ہوتی ہے: بشار الاسد

صدر اسد نے کہا: 'یہ جنگ کے دوران اہم موڑ ہے، اور ہم فتح کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔'

صدر نے آستانہ میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کے بارے میں کہا کہ ان کی حکومت ہر قسم کی بات چیت کے لیے تیار ہے۔ 'دوسری جانب کون ہو گا؟ ہمیں ابھی تک نہیں معلوم۔ کیا یہ اصل شامی حزبِ اختلاف ہو گی؟'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں