روسی صدر امریکی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مدد کرنا چاہتے تھے: انٹیلی جنس رپورٹ

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ AFP

امریکی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدارتی انتخاب میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جیتنے میں مدد کرنا روسی صدر ولادی میر پوتن کی خواہش تھی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی صدر نے امریکی انتخاب پر اثرانداز ہونے والی مہم کو شروع کرنے کا ’حکم‘ دیا تھا۔

موسکو نے رپورٹ پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے لیکن وہ پہلے اس کی تردید کرتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ یہ رپورٹ انٹیلی جنس چیف کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو تمام معلومات سے آگاہ کرنے کے فوراً بعد ہی ریلیز کر دی گئی۔

٭ خفیہ ایجنسیوں پر تنقید، ’ٹرمپ سمجھداری کا ثبوت دیں‘

٭ ’مبینہ ہیکنگ میں ملوث روسی ایجنٹس کی شناخت کر لی گئی‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’ہمیں معلوم ہوا ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن نے سنہ 2016 کے صدراتی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے لیے مہم چلانے کا حکم دیا تھا۔‘

’روس کا مقصد امریکی جمہوری عمل پر سے عوام کا یقین کمزور بنانا ہے، ہلیری کلنٹن کو بدنام کرنا اور صدارت کے لیے ان کے انتخاب کو نقصان پہنچانا ہے۔‘

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ روس کی ’واضح ترجیح‘ تھے۔

جانچ رپورٹ کے نتائج کے بارے میں تفصیل سے آگاہ کیے جانے کے بعد مسٹر ٹرمپ روس پر مداخلت کا الزام لگانے سے باز رہے اور صرف یہ کہا کہ انتخابات کے نتائج اس سے متاثر نہیں ہوئے۔

یاد رہے کہ صدارتی انتخابات جیتنے کے بعد سے ڈونلڈ ٹرمپ بارہا روسی ہیکنگ کے دعوی کے حوالے سے امریکی انٹیلی جنس اداروں پر سوالات اٹھاتے رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

نومنتخب صدر ٹرمپ نے انٹیلی جنس اداروں کی تحقیقات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے کمپیوٹروں کا معائنہ کرنے کی درخواست کا فیصلہ کیوں نہیں کیا۔

گذشتہ دنوں ایسی اطلاعات سامنے آئیں تھیں کہ امریکہ میں گذشتہ سال نومبر میں صدارتی انتخاب سے قبل مبینہ ہیکنگ میں ملوث روسی ایجنٹس کی شناخت کر لی گئی ہے۔

امریکی حکام نے ان ایجنٹس کے نام ظاہر نہیں کیے تھے اور ان پر الزام تھا کہ انھوں نے ڈیموکریٹس کی ای میل سے ڈیٹا چرا کر وکی لیکس کو منتقل کیا تھا تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کے حق میں ووٹنگ اثرانداز ہوسکے۔

تاہم روس اس میں ملوث ہونے کی تردید کرتا ہے اور وکی لیکس کے بانی جولین اسانژ کا کہنا ہے کہ اسے معلومات ماسکو سے نہیں ملی تھیں۔

امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو ڈونلڈ ٹرمپ کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ نو منتخب صدر کے لیے انٹیلی جنس ایجنسیوں پر یقین نہ کرنا 'سراسر بیوقوفی' ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں