سعودی عرب: سکیورٹی فورسز کا آپریشن ’دو خطرناک دہشت گرد ہلاک‘

سعودی عرب خصوصی افواج تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سعودی عرب میں حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے دارالحکومت ریاض میں ایک آپریشن کر کے دو 'خطرناک دہشت گردوں' کو ہلاک کر دیا ہے۔

سنیچر کو دہشت گردوں کے خلاف ہونے والے اس آپریشن کے دوران ایک سکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوا۔

سعودی عرب کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والا ایک دہشت گرد خود کش بم دھماکوں میں استعمال ہونے والی جیکٹس بنانے کا ماہر تھا۔

سعودی وزارتِ داخلہ کے ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے پریس بریفنگ کے دوران بتایا کہ ہلاک ہونے والے دونوں دہشت گرد سعودی شہری ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ دہشت گرد تائی السیاری مطلوب افراد کی فہرست میں شامل تھا اور وہ لوگوں کو بھرتی کرنے کے بعد انھیں خود کش بمبار بننے کی تربیت دیتا تھا۔

یاد رہے کہ سنہ 2015 میں خصوصی افواج کے مرکز اور مدینہ میں مسجدِ نبوی کے قریب ہونے والے بم دھماکوں میں خود کش جیکٹس ہی استعمال کی گئی تھیں۔

ترجمان میجر جنرل منصور الترکی نے بتایا کہ آپریشن کے دوران ہلاک ہونے والا دوسرا دہشت گرد اگست سنہ 2015 میں عصر کے علاقے میں مسجد پر ہونے والے بم دھماکے میں ملوث تھا۔ اس بم دھماکے میں پندرہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ انتہائی مطلوب افراد کی گرفتاری کے لیے خصوصی آپریشن کیا گیا اور دہشت گردوں نے بھر پور جوابی فائرنگ کی جس سے سکیورٹی فورسز کا ایک اہلکار زخمی ہوا لیکن دونوں دہشت گرد مارے گئے۔

اس کارروائی کی دوارن سکیورٹی فورسز نے دھماکہ خیز مواد سے بھری دو خود جش جیکٹس، دیسی ساختہ گرینڈ اور کیمیائی مواد اپنے قبضے میں لیا ہے۔

حالیہ کچھ عرصے کے دوران سعودی عرب میں پر تشدد واقعات کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے۔

اسی بارے میں