امریکہ کی صدارت خاندانی کاروبار نہیں ہے: اوباما کی نصیحت

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption گذشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تھا کہ وہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے 'بڑے مداح' ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ انھوں نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نصحیت کی ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کو 'اپنے خاندانی کاروبار کی طرز پر' چلانے کو کوشش نہ کریں۔

امریکی ذرائع ابلاغ اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں براک اوباما نے کہا کہ ٹرمپ کو امریکی اداروں کا 'احترام' کرنا چاہیے۔

٭ ٹرمپ اور اوباما میں ملاقات، چند 'ناخوشگوار' لمحات

٭ صدر اوباما سے ملاقات، میرے لیے اعزاز کی بات: ٹرمپ

انھوں نے کہا کہ 'حلف لینے کے بعد آپ زمین کی سب سے تنظیم کے سربراہ ہوں گے۔'

اوباما نے خبردار کیا کہ ملک چلانے اور مہم چلانے میں فرق ہوتا ہے۔

اوباما نے کہا کہ 'وہ (ٹرمپ) جو کچھ کہیں گے، عالمی بازارِ حصص، مالیاتی بازار اور دنیا بھر میں لوگ اُسے سنجیدہ لیں گے۔'

صدر اوباما نے روس کی سائبر حملے سے متعلق امریکہ خفیہ ادارے کی رپورٹ کے بارے میں بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے اس حملے کے اثرات کے بارے میں 'غلط اندازہ' لگایا۔

انھوں نے کہا کہ 'میرے خیال ہے کہ میں نے معلومات کے اس دور میں ایسے زیادہ اہمیت نہیں دی اور ممکنہ طور یہ ایک گمراہ کن اطلاع تھی لیکن اس کا سوسائٹی پر اثر ہوا۔'

اوباما نے بتایا کہ اُن کی ٹرمپ سے ہونے والی بات چیت میں خفیہ اداروں پر اعتماد کی اہمیت کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔

صدر اوباما نے کہا کہ 'بعض اوقات اچھا فیصلہ کرنے کا واحد راستہ یہ ہوتا ہے کہ آپ کو یہ اعتماد ہو کہ تمام کام مختلف مراحل میں ہو رہے ہیں۔‘

کئی ماہ تک سکیورٹی ایجنسیوں کے روس کے ساتھ روابط کے شبہے کے بعد گذشتہ ہفتے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ تھا کہ وہ انٹیلیجنس ایجنسیوں کے 'بڑے مداح' ہیں۔

یاد رہے کہ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں کامیابی کے بعد امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنے عہدے کا حلف اٹھا رہے ہیں۔

اسی بارے میں