موصل کا معرکہ: عراقی افواج دریائے دجلہ تک پہنچ گئی

عراق، حکومتی افواج تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکومتی افواج نے دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ پر موصل پر گذشتہ سال اکتوبر میں دھاوا بولا تھا

عراق میں حکومتی افواج موصل میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کو پسپا کرتے ہوئے پہلی مرتبہ شہر کے اندر دریائے دجلہ کے کنارے پہنچ گئی ہیں۔

عراق کی انسدادِ دہشت گردی کی فوج کے ترجمان نے کہا کہ وہ دریا کے مشرقی کنارے پر ایک پل کی طرف موجود ہیں جیسے دولتِ اسلامیہ نے نقصان پہنچایا ہے۔

٭ موصل کا معرکہ: 'داعش صرف داڑھیاں ہیں'

٭ عراقی افواج موصل کی حدود میں داخل

عراق میں حکومتی افواج نے دولتِ اسلامیہ کے مضبوط گڑھ پر گذشتہ سال اکتوبر میں دھاوا بولا تھا۔

افواج نے جنگجوؤں کو مشرق میں ایک ایک کر کے ضلعے میں پیچھے دھکیلا۔ عراقی افواج کے مطابق انسدادِ دہشت گردی کی افواج نے پُل کے قریب تاریخی مقام پر دولتِ اسلامیہ سے لڑائی کی۔

خبر رساں ادارے رویئٹرز نے لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی کے حوالے سے بتایا ہے کہ فورسز دونوں جانب سے پیش قدمی کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'پیش قدمی کرتے ہوئے تاریخی پہاڑوں کے قریب دولتِ اسلامیہ نے اُن کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی۔'

جنرل سعدی نے کہا کہ امریکہ اور اتحادی افواج کے جنگی جہازوں نے دولتِ اسلامیہ کے درجنوں جنگجوؤں کو ہلاک کیا ہے۔

دریائے دجلہ تک رسائی اُس وقت ممکن ہوئی جب حکومتی افواج نے رات بھر جاری رہنے والی لڑائی کے بعد المثنی ڈسٹرکٹ پر کنٹرول حاصل کیا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ اکتوبر سے جاری آپریشن میں اب تک موصل کے دو تہائی علاقہ حکومتی کنٹرول میں ہے۔

شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ نے دو سال قبل موصل پر قبضہ کیا تھا جس کے بعد انھوں نے عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں پر قبضے کرنا شروع کر دیے۔

موصل کو حکومتی کنٹرول میں لینے کے ہونے والے آپریشن کی وجہ سے اب تک شہر سے ایک لاکھ افراد نے محفوظ علاقوں کی جانب نقل مکانی کی ہے۔

اسی بارے میں