ٹرمپ ’روس اور چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہاں'

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Huw Evans picture agency
Image caption نو منتخب صدر نے ایک انٹرویو میں اپنے ان خیالات کا اظہار کیا ہے

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ روس اور چین کے ساتھ مل کر کام کرنے کے خواہش مند ہیں بشرطیکہ دونوں ممالک تعاون کریں۔

ٹرمپ نے وال سٹریٹ جرنل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ روس پر عائد حالیہ پابندیاں کچھ عرصے تک قائم رہیں گی لیکن پھر انھیں اٹھایا جا سکتا ہے۔

ٹرمپ روس سے دوستی کے متمنی، نامزد وزرا روس سے ناراض

’میری نجی زندگی کے بارے میں خبریں جعلی اور من گھڑت ہیں‘

’نومنتخب امریکی صدر ٹرمپ روس کے ساتھ تعلقات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں‘

انھوں نے ون چائنا پالیسی کے متعلق کہا کہ اس بارے میں بات چیت ہو سکتی ہے۔ فی الحال اس پالیسی کے تحت امریکہ تائیوان کو چین سے علیحدہ تسلیم نہیں کرتا۔

اپنے انٹرویو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگر ماسکو اسلامی شدت پسندی کے خلاف جنگ اور دوسرے معاملوں میں واشنگٹن کی مدد کرتا ہے تو روس پر سے پابندیاں ہٹائی جا سکتی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’اگر آپ ساتھ چلتے ہیں اور واقعتاً روس ہماری مدد کرتا ہے تو پھر کوئی کسی پر پابندی کیوں لگائے گا جب کوئی واقعی اچھا کام کررہا ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ انھیں امید ہے کہ روسی صدر ولادی میر پوتن سے ان کی ملاقات طے کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP / GETTY IMAGES
Image caption صدر اوباما اور صدر پوتن کے درمیان رشتے عام طور پر سرد رہے

بیجنگ کے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ چین کو امریکی کمپینوں کو کرنسی کے حوالے سے لچک کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقابلے میں شریک ہونے کی اجازت دینی پڑے گی۔

انھوں نے گذشتہ مہینے ون چائینا پالیسی پر سوال کیے تھے جس سے چین کے سرکاری میڈیا کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا تھا۔

دریں اثنا امریکی سینیٹ کی ایک کمیٹی امریکہ کے صدارتی انتخاب میں روس کی مداخلت کی کوششوں کے دعوؤں کی تفتیش کرے گی۔

سینیٹ انٹیلی جنس کمیٹی کے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک رہنماؤں نے کہا کہ تفتیش کا نتیجہ کچھ بھی ہو وہ اپنی تفتیش جاری رکھیں گے۔

وہ روس کی سائبر اور انٹیلی جنس کی سرگرمیوں کی تفتیش کریں گے۔ اس سلسلے میں وہ موجودہ امریکہ انتظامیہ اور نو منتخب صدر ٹرمپ کی ٹیم سے بات چیت کریں گے۔

کمیٹی اس بات کی بھی تحقیقات کرے گی کہ کیا امریکی انتخاب کی مہم سے منسلک افراد کا روس سے کوئی رابطہ تھا۔

انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں سمن جاری کیا جائے گا اور ضروری ہوا تو حلف نامہ بھی داخل کرایا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کانٹے کی ٹکر رہی لیکن روس پر انتخابی نتائج کو متاثر کرنے کا الزام لگایا گیا ہے

زیادہ تر کام رازدارانہ طور پر انجام دیا جائے گا لیکن سینیٹروں کا کہنا ہے کہ جہاں مکمن ہوگا وہ کھلے عام سماعت کریں گے۔

سینیٹروں نے کہا کہ وہ رازداری اور غیر رازداری دونوں قسم کی رپورٹس کو پیش کریں گے۔

نو منتخب صدر نے جمعے کو ٹوئٹر پر اعلان کیا تھا کہ ان کی ٹیم بھی ’ہیکنگ کے معاملے میں ایک رپورٹ 90 دنوں میں داخل کرے گی۔‘

ٹرمپ نے انتخابات میں روسی مداخلت کے دعووں کو جھوٹی خبر اور من گھڑت قرار دیا تھا۔

دسمبر میں صدر اوباما نے ہیکنگ کے الزامات کے جواب میں 35 روسی سفارتکاروں کو ملک چھوڑنے کا حکم جاری کیا تھا۔

اسی بارے میں