یروشلم میں امریکی سفارت خانے کے منصوبے پر محمود عباس ناراض

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ویٹیکن اور فلسطین کے درمیان تعلقات میں 2015 سے خاصی گرمجوشی آئی ہے

فلسطینی صدر محمود عباس نے خبردار کیا ہے کہ اگر منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ کریں تو یہ قیام امن کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ وہ پاپ فرانسس سے ملاقات کے بعد ویٹیکن کے لیے فلسطینی سفارت خانے کے قیام کے بعد گفتگو کر رہے تھے۔

ویٹیکن نے ڈیڑھ برس قبل فلسطینی کو بطور ریاست تسلیم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ مشرق وسطٰی کے تنازعات میں مشرقی یروشلم ایک پیچیدہ اور حساس ترین موضوع ہے۔

* 'یروشلم کو اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت تسلیم کرلیں گے'

’اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت میں لے جائیں گے‘

فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی ریاست کا دارالخلافہ قرار دیتے ہیں جب کہ اسرائیل پورے یروشلم کو اپنا دارالخلافہ قرار دیتا ہے۔

اتوار کو فرانس کی میزبانی میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مزاکرات شروع کروانے کے لیے انٹرنیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

پاپ فرانسس بارہا امن مزاکرات شروع کرنے پر زور دیتے رہے ہیں۔ ویٹیکن اور فلسطینی کے درمیان تعلقات میں 2015 سے خاصی گرمجوشی آئی ہے لیکن ویٹیکن کی طرف سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے فیصلے سے اسرائیل نے خاصی ناراضی کا اظہار کیا تھا۔

روم میں بی بی سی کے نامہ نگار جیمز رینولڈز کا کہنا ہے کہ فلسطینی اور اسرائیلی دونوں اپنے لیے حامی تلاش کرنے میں مسلسل کوششیں کرتے رہتے ہیں لیکن ویٹیکن کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنے اور فلسطینی سفارت خانہ کھولنا فلسطین کے لیے ایک زبردست انعام سے کم نہیں۔ اب جب ویٹیکن میں اسرائیل اور فلسطین دونوں کے سفارت خانے موجود ہیں تو ایسے میں پوپ دونوں ممالک میں کشیدگی کم کرانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

سنیچر کو فلسطینی صدر محمود عباس نے ایک مرتبہ پھر اس خدشے کا اظہار کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا امریکی سفارت خانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے خدشات سے ڈونلڈ ٹرمپ کو تحریری طور پر آگاہ کر چکے ہیں۔

فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ اگر ایسا ہوا تو یہ فیصلہ دو ریاستی حل کے لیے نقصان دہ ہو گا۔

فرانسیسی اخبارلی فگارو کے بقول مسٹر عباس کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے نے صرف امریکی قیام امن میں کردار ادا کرنے کی قانونی حیثیت کھو دے گا بلکہ یہ فیصلہ دو ریاستی حل کو بھی تباہ کر دے گا۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹرمپ ایسا کرتے ہیں تو فلسطینی اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر ازسرنو غور بھی کر سکتے ہیں۔

اتوار کو پیرس ہونے والے امن مزاکرات میں ستر ممالک شرکت کر رہے ہیں۔

اسی بارے میں