ٹرمپ کو اپنی زبان کو قابو میں رکھنا ہو گا: سی آئی اے سربراہ

جان برینن تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption بےساختگی سے قومی مفادات کا تحفظ نہیں ہو سکتا: سی آئی اے سربراہ

سی آئی اے کے موجودہ سربراہ جان برینن نے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا ہے کہ صدر بن کر انھیں اپنی 'بے ساختگی' پر قابو پانا ہوگا۔

جان برینن نے جن کی مدت ملازمت جلد ختم ہو رہی ہے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جب بات کرتے ہیں یا ٹوئٹر پر کوئی پیغام دیتے ہیں تو انھیں یہ یقینی بنانا ہوگا کہ اس سے ملکی مفادات متاثر نہ ہوں۔'یہ معاملہ اب صرف ڈونلڈ ٹرمپ کا نہیں بلکہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ جب ٹرمپ صدر کے عہدے کا حلف لے لیں گے تو پھر ریاست ہائے متحدہ امریکہ کا مفاد اولین ہوگا۔

جان برنین نے کہا کہ 'بےساختگی' قومی مفادات کا تحفظ نہیں ہو سکتا۔‘

نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ تواتر کے ساتھ قومی اہمیت کےحامل معاملات پر ٹوئٹر پیغامات کےذریعے اعلانات کر رہے ہیں۔

جان برینن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ روس کی 'اہلیت اور نیتوں' کے بارے میں زیادہ اداراک نہیں رکھتے اور روس کو ہرمعاملے میں بری الذمہ قرار دینے میں احتیاط کا مظاہرہ کریں۔

جان برینین کا یہ بیان امریکی انٹیلی جنس کی اس رپورٹ کے ایک ہفتے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ روس نے امریکہ کے صدارتی انتخاب پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔

ڈونلڈ ٹرمپ بارہا انٹیلی جنس کی رپورٹ پر اپنے تحفظات کا اظہارکر چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا موقف ہے کہ ڈیموکریٹ پارٹی کے کمپیوٹر ہیک ہونے کی وجہ ان کی اپنی نااہلی کا نتیجہ ہے کیونکہ ڈیموکریٹ پارٹی نے ہیکنگ سے بچنے کے مناسب تدابیر اختیار نہیں کی تھیں۔

مزید براں ڈونلڈ ٹرمپ اور کریملن نے برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کی اس رپورٹ کو غلط قرار دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ صدر پوتن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین آئس لینڈ کے دارالحکومت ریکوک میں ملاقات کے لیے تیاریاں ہو رہی ہے۔

ریکوک ہی وہ مقام تھا جہاں عشروں سے جاری سرد جنگ کے خاتمے سے پہلے 1986 میں امریکی صدر رونلڈ ریگن اور میخائل گورباچوف کے مابین ملاقات ہوئی تھی۔

جان برینن نے فاکس نیوز کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکہ کا صدر ٹوئٹر پر پیغامات کے ذریعے ملکی اہمیت کےاعلان نہیں کر سکتا ۔

ڈونلڈ ٹرمپ 20 جنوری کو اپنےعہدے کا حلف لے رہے ہیں۔

جان برینن نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات پر بھی تنقید کا نشانہ بنایا جس میں انھوں نے امریکی انٹیلی جنس اداروں پر الزام لگایا تھا کہ انھوں نے ٹرمپ کی نجی زندگی کے بارے میں خبر ذرائع ابلاغ کو مہیا کی تھی۔

جان برینن نے کہا کہ مجھے جس بات سے سخت تکلیف ہے وہ یہ ہے کہ انھوں نے انٹیلی جنس اداروں کا نازی جرمنی سے موازنہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایسی معلومات جو پہلے ہی میڈیا کے پاس تھیں اس پر امریکی انٹیلی جنس اداروں کو مورد الزام ٹہرانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

اسی بارے میں