فلائٹ ایم ایچ 370: ملائشیا کے لاپتہ مسافر طیارے کی تلاش کا کام روک دیا گیا

جہاز تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سنہ 2014 میں ملائشین ایئرلائنز کی پرواز ایم ایچ 370 بیجنگ سے کوالالمپور جاتے ہوئے لاپتہ ہوگئی تھی (فائل فوٹو)

تین سال قبل ملائشیا کے لاپتہ ہونے والے مسافر طیارے کی تلاش کا روک دیا گیا ہے، اس مسافر طیارے میں 239 افراد سوار تھے۔

آسٹریلیا، ملائشیا اور چین کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بحر ہند میں ایک لاکھ 20 ہزار مربع کلومیٹر میں لاحاصل تلاش کے بعد یہ فیصلہ 'افسوس' کے ساتھ کیا گیا ہے۔

تاہم وہ پرامید ہیں کہ نئی معلومات سے مستقبل میں طیارے کے بارے علم ہوسکتا ہے۔

ایم ایچ 370 کے ملبے کی تلاش کا دائرہ کار بڑھانے کا مطالبہ

ملائشیا ایئر لائنز کے مستقبل پر سوالیہ نشان

طیارے میں سوار مسافروں کے رشتے داروں نے یہ فیصلے کو 'غیرذمہ دارانہ' قرار دیتے ہوئے اس پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

سنہ 2014 میں ملائشین ایئرلائنز کا بوئنگ 777 جہاز بیجنگ سے کوالالمپور جاتے ہوئے لاپتہ ہوگیا تھا۔

تاحال صرف ایسے 20 ٹکڑے مل سکے ہیں جن کی شناخت لاپتہ طیارے کے ملبے کے طور پر کی گئی ہے یا قیاس ہے کہ وہ طیارے کا حصہ ہوسکتے ہیں۔

نومبر 2016 میں ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے طیارہ ممکنہ طور پر 'بلند ہوا اور تیزی سے نیچے' بحرہند میں گر گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Blaine Alan Gibson
Image caption تاحال صرف ایسے 20 ٹکڑے مل سکے ہیں جن کی شناخت لاپتہ طیارے کے ملبے کے طور پر کی گئی ہے

منگل کو جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’مشترکہ طور پر سائنٹیفک جائزوں کے ذریعے مزید ممکنہ علاقوں میں تلاش کا کام کیا گیا، تاہم آج تک جہاز کے مخصوص مقام کے بارے میں کوئی نئی معلومات سامنے نہیں آسکیں۔‘

بیان کے مطابق ’ہم پرامید ہیں کہ نئی معلومات سامنے آتی رہیں گی اور مستقبل میں کسی موقع پر طیارے کو تلاش کر لیا جائے گا۔‘

دوسری جانب مسافروں کے رشتے داروں کے وائس 370 نامی گروپ نے کہا ہے کہ تلاش کا کام ضرور جاری رہنا چاہیے اور اس کا دائرہ بڑھانا چاہیے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ فضائی سہولت فراہم کرنے والوں کا ناگزیر فرض ہے کہ وہ فضائی سفر کے تحفظ کے لیے ایسا جاری رکھیں۔

اسی بارے میں