’ٹرمپ کے بارے میں خفیہ معلومات کی خبریں بکواس ہیں‘

پوتن تصویر کے کاپی رائٹ AFP

روسی صدر ولادی میر پوتن نے ان الزامات کو 'نری بکواس' قرار دیا ہے کہ روس کے پاس امریکی نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں خفیہ معلومات ہیں۔

انھوں نے سوال اٹھایا کہ روسی خفیہ ادارے ٹرمپ کے سیاست میں آنے سے قبل ان کی جاسوسی کیوں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ جو لوگ یہ الزامات لگا رہے ہیں وہ 'طوائفوں سے بدتر ہیں۔'

گذشتہ ہفتے ایسی اطلاعات شائع ہوئی تھی جن میں کہا گیا تھا کہ ٹرمپ کی الیکشن ٹیم نے روس کے ساتھ ساز باز کر رکھی تھی اور یہ کہ روس کے پاس ٹرمپ کی جنسی ویڈیوز موجود ہیں۔

الزامات میں کہا گیا تھا کہ روس کے پاس ٹرمپ کے کاروبار کے بارے میں بھی خطرناک معلومات موجود ہیں اور 2013 کو مِس ورلڈ مقابلے کے دوران ماسکو کے رٹز کارلٹن ہوٹل میں ٹرمپ کی طوائفوں کے ساتھ ویڈیو بنائی گئی تھی جو روس کے پاس موجود ہے۔

ٹرمپ نے بھی ان الزامات کو رد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے پیچھے ایک سابق برطانوی جاسوس ہیں اور یہ 'جعلی خبر' ہے۔

ماسکو میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پوتن نے کہا کہ شائع ہونے والی دستاویزات 'واضح طور پر جعلی' ہیں اور ان کا مقصد 'منتخب صدر کے قانونی جواز کو نقصان پہنچانا ہے۔'

انھوں نے کہا: 'جب ٹرمپ ماسکو آئے تب وہ سیاسی شخصیت نہیں تھے۔ ہمیں یہ تک معلوم نہیں تھا کہ ان کے سیاسی عزائم ہیں۔ کیا کوئی سمجھتا ہے کہ ہمارے خفیہ ادارے ہر امریکی ارب پتی کا تعاقب کریں گے؟ یقیناً نہیں۔ یہ نری بکواس ہے۔'

انھوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ٹرمپ ماسکو میں طوائفوں سے ملیں گے کیوں کہ وہ حسن کے مقابلے منعقد کروا رہے تھے اور 'دنیا کی حسین ترین خواتین' سے مل رہے تھے۔

اس سے قبل روسی وزیرِ خارجہ سرگے لاوروف نے کہا تھا کہ وہ برطانوی سابق جاسوس جس نے یہ میمو تیار کیا ہے وہ ایم آئی سکس کا کوئی بھگوڑا بدمعاش ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ لندن میں واقع ایک انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ کرسٹوفر سٹیل جب برطانوی خفیہ ادارے ایم آئی سکس میں ملازم تھے تو ان کے افسر ان کے کام کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے۔

امریکی خفیہ اداروں نے ان دعووں کو اس قدر لائقِ توجہ سمجھا کہ ان کے بارے میں صدر اوباما اور نومنتخب صدر ٹرمپ کو بریفنگ دی۔

تاہم ٹرمپ نے امریکی اداروں پر الزام لگایا کہ انھوں یہ خبر میڈیا کو افشا کی ہے۔ البتہ نیشنل انٹیلی جنس کے سربراہ جیمز کلیپر نے اس کی تردید کی ہے۔

روسی صدر ولادی میر پوتن نے ان اطلاعات کو بھی 'جعلی خبر' قرار دیا کہ روسی ہیکروں نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں