کیا ٹرمپ جوہری ہتھیار داغنے کا فیصلہ تنہا کر سکتے ہیں؟

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ BRENDAN HOFFMAN/GETTY IMAGES
Image caption جس وقت ڈونلڈ ٹرمپ حلف اٹھائیں گے اس وقت یہ بریف کیس خاموشی سے ان کے ساتھی کو منتقل کر دیا جائے گا

واشنگٹن میں 20 جنوری کو ایک نامعلوم فوجی ساتھی کے ہمراہ براک اوباما تمام صدارتی اختیارات منتقل کر دیں گے۔

یہ فوجی اہلکار (مرد یا عورت) اپنے ساتھ ایک ایک بریف کیس اٹھائے ہوئے ہو گا جو ’دی نیوکلیئر فٹ بال‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کے اندر نمبروں پر مبنی ایک ہارڈ وئیر ہوتا ہے جو تین انچ چوڑا اور پانچ انچ لمبا ہے اسے ’بسکٹ‘ کہا جاتا ہے۔

* امریکہ کو اپنی جوہری صلاحیت بڑھانی چاہیے: ٹرمپ

* روس نے امریکہ کے ساتھ پلوٹونیم کا معاہدہ معطل کر دیا

اس میں جوہری حملے لانچ کرنے سے متعلق کوڈز ہیں۔ ان کو کس طرح سے استعمال کرنا ہے اس کے بارے میں تو نئے صدر کو ہدایات پہلے ہی دی جا چکی ہیں تاہم جس وقت ڈونلڈ ٹرمپ حلف اٹھائیں گے اس وقت یہ بریف کیس خاموشی سے ان کے فوجی ساتھی کو منتقل کر دیا جائے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو اس کے بعد کسی بھی ایسے اقدام کے احکامات دینے کا مکمل اختیار حاصل ہو جائے گا جس کا نیتجہ ایک گھنٹے کے اندر اندر لاکھوں لوگوں کی ہلاکت بھی ہو سکتا ہے۔

اس وقت بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال موجود ہے کہ انتہائی کم قوتِ برداشت کے باعث وہ کیا حفاظتی اقدامات ہوں گے جو جلد باز فیصلوں کے تباہ کن نتائج سے محفوظ رکھ سکیں۔

پہلی بات تو یہ کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری ہتھیاوں کے استعمال سے متعلق جو اشتعال انگیز بیان دیے وہ انہیں واپس لے چکے ہیں۔

حال ہی میں انھوں نے کہا کہ وہ جوہری ہتھیار استعمال کرنے والے آخری فرد ہوں گے تاہم انھوں نے اسے خارج از امکان قرار نہیں دیا۔

اگرچہ کمانڈ دینے والے لوگوں میں دوسرے اعلیٰ حکام بھی ہیں جن میں وزیرِ دفاع اور امریکی فوج کے جنرل شامل ہیں تاہم انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ فار سٹرٹیجک سٹڈیز واشنگٹن میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے ماہر مارک فٹزپیٹرک کا کہنا ہے کہ ’آخر کار حملہ کرنے کا کُلی اختیار صدر ہی کے پاس ہوتا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’صدر کی جانب سے جوہری حملے کرنے پر کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ لیکن اس وقت وہ کسی ایک شخص کو اختیار دے گا تاہم اس کے بعد دوسرے لوگ بھی اس میں شامل ہو جائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ DREW ANGERER/GETTY IMAGES
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ نے جوہری ہتھیاوں کے استعمال سے متعلق جو اشتعال انگیز بیان دیے وہ انہیں واپس لے چکے ہیں۔

یہ سوچنا کہ کوئی صدر خود ہی کوئی یادگار فیصلہ کر لے گا غیر حقیقی ہے۔ صدر حکم دیتا ہے اور وزیرِ دفاع آئینی طور پر اس کی تکمیل کا پابند ہوتا ہے۔

وزیرِ دفاع کو اگر صدر کی ہوش مندی پر کوئی شبہ ہو تو وہ اس کا حکم بجا لانے سے انکار بھی کر سکتا ہے تاہم یہ بغاوت کے زمرے میں آئے گا اور صدر اسے برخاست کر کے یہی حکم اس کے نائب کو دے سکتا ہے۔

امریکی آئینی میں کی جانے والی 25 ویں ترمیم کے تحت نائب صدر یہ قرار دے سکتا ہے کہ صدر فیصلے کرنے کے لیے ذہنی طور پر اہل نہیں ہے لیکن اس کے لیے اسے کابینہ کی اکثریت کی حمایت درکار ہو گی۔

تو اس پر عملدرآمد کیسے ممکن ہے؟

اس بریف کیس میں موجود نیوکلیئر بال جو ہمیشہ صدر کے ساتھ رہتا ہے اور امریکی صدر کمانڈر اِن چیف بننے کے بعد ایک پلاسٹک کا کارڈ استعمال کرتے ہوئے اس میں موجود ’بلیک بک‘سے حملے کے ممکنہ اہداف کا انتخاب کر سکتے ہیں۔

واشنگٹن کے قصہ گوؤں کے مطابق سابق صدر نے ایک مرتبہ اپنا یہ شناختی کارڈ کھو دیا تھا جب وہ اسے اپنی ایک جیکٹ میں بھول گئے اور وہ ڈرائی کلین ہونے چلی گئی۔

ایک مرتبہ امریکی صدر اس طویل فہرست میں سے ہدف کا انتخاب کر لیتا ہے تو یہ حکم جوائنٹ چیفز آف سٹاف کے چیئرمین کے توسط سے پینٹاگون کے جنگ سے متعلق کمرے تک جاتے ہیں اور پھر یہاں سے خفیہ کوڈز کا استعمال کرتے ہوئے یہ احکامات نبراسکا میں امریکی سٹرٹیجک کمانڈ ہیڈ کوراٹر کو بھیجے جاتے ہیں۔

جوہری ہتھیار داغنے کا حکم وہاں موجود تجوری میں بند خفیہ کوڈز سے مطابقت کے بعد عملے تک منتقل کیا جاتا ہے۔

امریکہ اور روس دونوں کے پاس اتنے جوہری ہتھیار موجود ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے شہروں کو کئی بار تباہ کر سکتے ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ محض ماسکو شہر کو تباہ کر نے کے لیے امریکہ کے پاس 100 جوہری ہتھیار ہیں۔

ان دونموں ممالک کے پاس موجود جوہری ہتھیار دنیا بھر میں موجود جوہری ہتھیاروں کا 90 فیصد ہیں۔

ستمبر سنہ 2016 تک روس کے پاس سب سے زیادہ 1796 ہتھیار تھے جو بین البرِ اعظم بیلسٹک میزائلز، آبدوزوں کے ذریعے لانچ کیے جانے والے بیلسٹک میزائلز اور سٹریٹیجک بنکرز پر نصب کیے گئے ہیں۔

روسی صدر ولادیمیر پوتن کے احکامات کے مطابق ماسکو نے اپنی سٹریٹیجک نیوکلیئر میزائل فورس کو بہتر بنانے کے لیے اربوں ڈالر کی رقوم خرچ کیں۔ اس کے علاوہ سربیا کے جنگلوں کے نیچے زیرِ زمین سرنگوں میں اس کے بیلیسٹک میزائل موجود ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ DIMA KOROTAYEV/AFP/GETTY IMAGES
Image caption سربیا میں موجود روسی کے موبائل میزائل

جبکہ ستمبر 2016 میں امریکہ کے پاس 1367 جوہری ہتھیار تھے جو زمین، سمندر میں آبدوزوں پر اور فوجی ہوائی اڈوں پر موجود ہیں۔ برطانیہ کے پاس 120 سٹرٹیجک ہتھیار ہیں جن میں سے ایک تہائی سمندر میں نصب ہیں۔

روس اور امریکہ کے درمیان زمین کے داغے گئے میزائل کی اڑان کا وقت 25 سے 30 منٹ ہے جبکہ آبدوز سے ساحل کے قریب جانے کی صورت میں یہ وقت 12 منٹ تک ہو سکتا ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ صدر کے پاس یہ سوچنے کا وقت نہیں رہ جاتا کہ یہ ایک غلط فیصلہ تھا یا مسلط کر دی گئی بین الاقوامی جنگ ہے۔

ایک مرتبہ یہ ہتھیار لانچ کر دیے گئے تو یہ فیصلہ واپس نہیں ہو سکتا لیکن اگر یہ ابھی تک اپنے نصب کردہ مقام میں ہی ہیں تو انہیں وہیں اندر تباہ کیا جا سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ایک سینیئر سابق اہلکار نے حال ہی میں مجھے بتایا جوہری حملے کا فیصلہ کرنے کا زیادہ تر انحصار حالات پر ہوتا ہے۔

اگر یہ ایک طویل المعیاد پالیسی فیصلہ ہے کہ فلاں ملک پر حملہ کرنا ضروری ہے تو اس میں بہت سے لوگ ملوث ہوں گے۔ نائب صدر، قومی سلامتی کے مشیر اور کابینہ کے بیشتر ارکان فیصلہ سازی میں شامل ہوں گے۔

لیکن اگر امریکہ پر اچانک سے سٹرٹیجک خطرہ نازل ہوتا ہے جیسا کہ کسی ملک کی جانب سے امریکہ کی جانب جوہری ہتھیار سے لیس میزائل داغا جاتا ہے جو چند منٹ میں پہنچے والا ہے تو صدر کو یہ غیر معمولی اختیار حاصل ہے کہ وہ تنہا ہی حملہ کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں