گیمبیا کے صدر عہدہ چھوڑنے پر آمادہ

گیمبیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP / GETTY IMAGES
Image caption معاہدے کی خبر سن کر آداما بارو کے حمایتی گلیوں میں نکل آئے

گیمبیا پر طویل عرصہ حکمرانی کرنے والے یحییٰ جامع نے اعلان کیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے دست بردار ہو جائیں گے۔

سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے اعلان میں انھوں نے کہا: ’ضروری نہیں ہے کہ خون کا ایک قطرہ بھی بہے۔‘

جامع کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب انھوں نے گنی اور موریطانیہ کے صدر سے بات چیت کی۔ تاہم جامع نے یہ نہیں کہا کہ کیا شرائط طے ہوئی ہیں۔

٭ گیمبیا کے سابق صدر کو اقتدار سے الگ ہونے کی آخری مہلت

جامع کو دسمبر میں ہونے والے انتخابات میں شکست ہو گئی تھی، اور ان کے جانشین آداما بارو نے گذشتہ روز سینیگال میں اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا۔ تاہم جامع نے کہا تھا کہ انتخابات میں بےضابطگیاں ہوئی ہیں اور ان کے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS/AFP
Image caption آداما بارو نے صدارتی انتخابات میں یحییٰ جامع کو شکست دی تھی

بارو نے ملک چھوڑ کر جانے والے ہم وطنوں سے کہا کہ وہ اب ملک واپس جا سکتے ہیں۔

کئی مغربی افریقی ملکوں کی فوجیں گیمبیا میں تعینات ہیں۔ ان ملکوں نے دھمکی دی تھی کہ اگر جامع خود اقتدار سے الگ نہ ہوئے تو انھیں زبردستی معزول کر دیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption یحییٰ جامع نے پارلیمان سے تین ماہ کی توسیع حاصل کر لی تھی

انھوں نے سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں کہا: 'گیمبیا سے خوف کی حکمرانی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔'

بارو کئی دن سے پڑوسی ملک سینیگال میں ہیں۔

مغربی افریقہ کے ممالک گیمبیا کے حالیہ صدارتی انتخابات کے فاتح آداما بارو کی حمایت کر رہے ہیں۔

جامع نے تقریر میں کہا: ’میں اپنے ضمیر کے مطابق اس عظیم ملک کی قیادت سے دست بردار ہونے کا فیصلہ کیا ہے، اور میں گیمبیا کے تمام شہریوں کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘

جامع 1992 سے اقتدار میں ہیں اور وہ ماضی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ ’اربوں سال تک‘ حکومت کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں