ٹرمپ کا صدارتی حکمنامہ، امریکہ نے بحرالکاہل کے تجارتی معاہدے کی رکنیت چھوڑ دی

ٹرمپ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحرالکاہل کے تجارتی معاہدے کی رکنیت چھوڑنے کے صدارتی حکمانامے پر دستخط کر دیے ہیں۔

صدر ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے سے پہلے اعلان کیا تھا کہ وائٹ ہاؤس میں ان کی آمد کے پہلے دن ہی امریکہ عالمی تجارتی معاہدے ٹرانس پیسفک پاٹنرشپ ڈیل (بحرالکاہل کے آر پار ہونے والے مشترکہ تجارت کے معاہدے) سے باہر نکل جائے گا۔

یہودی بستی کی منظوری، نیتن یاہو کو امریکہ آنے کی دعوت

میڈیا ٹرمپ کی قانونی حیثیت کو نقصان پہنچانے کی کوشش میں ہے

صدر ٹرمپ نے تجارتی معاہدے سے نکلنے کے صدارتی حکمنامے پر دستخط کرنے کے بعد کہا ہے کہ’ جو ابھی ہم نے کیا ہے وہ امریکی ورکروں کے لیے بہت بڑی چیز ہے۔‘

خیال رہے کہ آسٹریلیا، ملائیشیا، جاپان، نیوزی لینڈ، کینیڈا اور میکسیکو سمیت 12ممالک اس عالمی تجارتی معاہدے میں شامل ہیں اور یہ ممالک دنیا کی 40 فیصد تجارت کو کنٹرول کرتے ہیں۔

اس سے پہلے صدر ٹرمپ نے ملک میں ملازمتوں کے مواقع برقرار رکھنے والی کمپنیوں کو ٹیکس اور قوانین میں 'بڑی' رعایات دینے کا وعدہ کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنے والوں میں ورل پول، انڈر آرمر، ٹیسلا، لاک ہیڈ مارٹن اور جانسن اینڈ جانسن جیسی بڑی کمپنیوں کے عہدیداران شامل ہیں

پیر کو کاروباری شخصیات سے ملاقات کے بعد صدر ٹرمپ نے متنبہ بھی کیا کہ وہ ایسی کمپنیوں پر 'بہت زیادہ سرحدی ٹیکس' بھی عائد کر دیں گے جو اپنا پیداواری عمل امریکہ سے باہر منتقل کریں گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو ملک کے 45ویں صدر کا حلف اٹھایا ہے جس کے بعد اختتام ِ ہفتہ پر لاکھوں خواتین نے ملک بھر میں ان کے خلاف مظاہرے بھی کیے۔

نئے امریکی صدر پیر کو ایوانِ نمائندگان کے سپیکر پال ریان سے بھی ملاقات کریں گے جبکہ ظہرانے پر ان کے مہمان امریکی نائب صدر ہوں گے۔

پیر کی صبح ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ 'یہ ہفتہ مصروف گزرے گا اور توجہ کا مرکز ملازمتیں اور قومی سلامتی ہوں گے۔'

پیر کو اپنے اپنے دورِ صدارت کے پہلے ہفتے کے آغاز پر اہم اجلاسوں میں شرکت کے ساتھ ساتھ وہ کئی ایگزیکیٹو آرڈرز بھی جاری کرنے والے ہیں۔

وائٹ ہاؤس کے روزویلٹ روم میں کاروباری اداروں کے عہدیداران سے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ قوانین میں بڑی تبدیلی آنے والی ہے لیکن یہ قوانین بدستور عوام کے محافظ رہیں گے۔

انھوں نے عزم ظاہر کیا کہ وہ کارپوریٹ ٹیکس کی موجودہ 35 فیصد شرح کو کم کر کے 15 سے 20 فیصد تک لائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کے اگلے ہی دن لاکھوں خواتین نے ان کے خلاف مظاہرے کیے ہیں

پیر کو صدر ٹرمپ سے ملاقات کرنے والوں میں ورل پول، انڈر آرمر، ٹیسلا، لاک ہیڈ مارٹن اور جانسن اینڈ جانسن جیسی بڑی کمپنیوں کے عہدیداران شامل تھے۔

ان شخصیات سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ بیرونِ ملک تیار کی گئی اشیا پر بھاری ٹیکس لگانے کا ارادہ رکھتے ہیں اور 'آپ کو بس یہی کرنا ہے کہ آپ پیداواری عمل ملک (امریکہ) میں ہی رکھیں۔'

امریکی صدر کے طے شدہ شیڈول کے مطابق وہ دوپہر کو مزدور رہنماؤں سے بھی ملیں گے۔

یہ تاحال واضح نہیں کہ صدر ٹرمپ پیر کو کونسے صدارتی احکامات جاری کرنے والے ہیں تاہم اتوار کو ان کی انتظامیہ نے بتایا تھا کہ صدر امیگریشن اور اسرائیل سے لے کر معیشت تک مختلف معاملات پر غور کر رہے ہیں اور ان میں ممکنہ طور پر شمالی امریکہ کے آزادانہ تجارت کے معاہدے کی تشکیلِ نو بھی شامل ہو سکتی ہے۔

ماضی میں ڈونلڈ ٹرمپ میکسیکو اور کینیڈا سے کیے گئے اس معاہدے کو امریکی کارکنوں کو ملازمتوں سے محروم رکھنے کی وجہ قرار دے چکے ہیں۔

امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر ٹرمپ ٹرانس پیسیفک تجارتی معاہدے سے علیحدگی کا حکم بھی جاری کر سکتے ہیں۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے فوکس نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ 'پیر ہی وہ دن ہوگا جب سے ہم ایسے معاہدوں پر دستخط یا ان کی تیاری شروع کر دیں گے جو اس ملک کے مفاد میں ہوں گے۔'

ادھر امریکی سینیٹ پیر کو مائیک پومپے کی بطور ڈائریکٹر سی آئی اے اور ریکس ٹلرسن کی بطور وزیرِ خارجہ نامزدگیوں پر غور کرے گی۔

اتوار کو ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِ اعظم بن یامین نتن یاہو سے فون پر بات کی تھی اور بعد ازاں کہا تھا کہ یہ رابطہ بہت اچھا رہا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری شان سپائسر نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ یروشلم میں سفارتخانے کی منتقلی کے موضوع پر بات چیت کے بھی انتہائی ابتدائی مرحلے میں ہے

اس بات چیت کا جو خلاصہ وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری کیا گیا ہے اس میں صدر ٹرمپ کے اس منصوبے کا کوئی ذکر نہیں جس کے تحت اسرائیل میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنا شامل ہے اور یہ منتقلی امریکہ کی دو دہائی سے جاری پالیسی کو تبدیل کر دے گی۔

1995 کا یروشلم سفارتخانہ ایکٹ امریکی صدر کو پابند کرتا ہے کہ وہ امریکی سفارتخانہ یروشلم منتقل کرے تاہم اس سے بچاؤ اسی صورت میں ممکن ہے کہ وہ ہر چھ ماہ بعد یہ تصدیق کرے کہ ایسا کرنا قومی مفاد میں نہیں ہے۔

سابق صدر بل کلنٹن سے لے کر براک اوباما تک تمام امریکی صدر یہ تصدیقی سرٹیفیکیٹ جاری کرتے رہے ہیں اور صدر ٹرمپ کے پاس یہ فیصلہ کرنے کے لیے مئی 2017 تک کا وقت ہے کیونکہ صدر اوباما نے آخری مرتبہ یہ سرٹیفیکیٹ یکم دسمبر 2016 کو جاری کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے پریس سیکریٹری شان سپائسر نے کہا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس موضوع پر بات چیت کے بھی انتہائی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

اسی بارے میں