احتجاج کے بعد زکربرگ نے جائیداد کا مقدمہ واپس لے لیا

مارک زکر برگ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مارک زکر برگ کا کہنا ہے کہ وہ زمین کے اصل مالکان کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاکہ انھیں اس کا مناسب معاوضہ مل سکے

سماجی رابطے کی معروف ویب سائٹ فیس بک کے سربراہ مارک زکربرگ نے امریکی ریاست ہوائی میں اراضی حاصل کرنے کا مقدمہ واپس لے لیا ہے۔

ارب پتی مارک زکربرگ نے ریاست ہوائی میں واقع کوائی کے جزیروں پر اپنی پہلے سے موجود جائیداد کے آس پاس کچھ زمین لینے کے لیے عدالت میں مقدمہ درج کیا تھا۔

لیکن ان کی اس کوشش پر وہاں کے مقامی رہائشیوں کی جانب سے سخت تنقید ہوئی جس کی وجہ سے انھوں نے یہ کوشش ترک کر دی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس پر پہلے زیادہ غور و فکر نہیں کیا تھا اور 'واضح طور پر یہ غلطی تھی۔‘

جمعے کے روز ہوائی کے مقامی اخبار 'گارڈین آئی لینڈ' کو لکھے گئے ایک خط میں مارک زکربرگ اپنے فیصلے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس تنازعے سے انھیں زمین کے حقوق پر تاریخی اہمیت کا زیادہ سبق سیکھنے کو ملا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK.COM/ZUCK
Image caption زکر برگ نے ہوائی کے جزیرے پر 700 ایکڑ کا قطعۂ زمین کا ٹکڑا خریدا تھا، جہاں ان کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی بسنا چاہتی ہے

زکر برگ نے ہوائی کے جزیرے پر 700 ایکڑ کا قطعۂ زمین کا ٹکڑا خریدا تھا، جہاں ان کا کہنا ہے کہ ان کی فیملی بسنا چاہتی ہے۔ لیکن یہ اراضی متعدد چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بکھری ہوی جسے کلینا کہا جاتا ہے۔

ہوائی کے ان کلینا ٹکڑوں کی اپنی ایک تاریخ ہے جہاں بسنے والے مقامی کاشتکاروں کو سنہ 1850 میں زمین کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے فراہم کیے گئے تھے۔ یہاں پر رسائی حاصل کرنا، مچھلی پکڑنا اور پانی کے حقوق جیسے مسائل قدرے پیچیدہ ہیں۔

مارک زکربرگ نے عدالت سے کہا تھا کہ وہ متروکہ پلاٹوں کے مالکان کا پتہ کریں تاکہ ان کے ساتھ زمین کے مالکانہ حقوق کا مسئلہ طے کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بہت سے ایسے لوگوں کو تو یہ بھی نہیں معلوم ہو گا کہ وہ زمین کے مالک بھی ہیں۔

لیکن ریاست کے نمائندے کنیلا انگ سمیت بیشتر مقامی لوگوں نے ان کی ان کوششوں کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح زمین حاصل کرنے سے مقامی لوگوں کے حقوق محدود ہو کر رہ جائیں گے۔

مارک زکربرگ نے لکھا: ’غور و فکر کے بعد مجھے اس بات پر افسوس ہے کہ میں نے اس پر عمل کرنے سے قبل اس کی تاریخ اور اس عمل کے بارے میں اچھی طرح سے سمجھنے کے لیے وقت نہیں دیا۔ اب چونکہ میں اس مسئلے کو اچھی طرح سے سمجھ چکا ہوں، تو یہ بات واضح ہے کہ ہم سے غلطی ہوئی۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں