40 ترک فوجیوں نے جرمنی میں پناہ طلب کرلی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

جرمن میڈیا نے دعوی کیا ہے کہ ان کے ملک میں نیٹو کے فوجی اڈوں پر کام کرنے والے ترک فوج کے چالیس سینئیر اہلکاروں نے جرمنی سے پناہ کی درخواست کی ہے۔

ترکی کی حکومت کو شبہہ ہے کہ یہ اہلکار گذشتہ برس جولائی میں ہونے والی ناکام فوجی بغاوت میں ملوث ہیں۔ ان اہلکاروں کو بغاوت کے بعد معطل کردیا گیا تھا۔

* یونان کا ترک فوجیوں کو واپس بھیجنے کے خلاف فیصلہ

* ’یونان بغاوت کرنے والوں کا تحفظ اور میزبانی کر رہا ہے‘

جرمن اخبارات اور چینلز کے مطابق اس معاملے پر ابھی تک نیٹو فورسز اور جرمنی کی حکومت کا موقف سامنے نہیں آسکا۔ تاہم جرمن وزارت داخلہ اور امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ پناہ کی اس درخواست پر پہلے سے وضع شدہ طریقہ کار کے تحت ہی کاروائی کی جائے گی۔

دوسری جانب قدامت پسند سیاسی جماعت سی ایس یو کے رہنما سٹیفن مئیر کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کو واپس بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ اگر انھیں ترکی بھیجا گیا تو انھیں فوری طور پر جیل میں ڈال دیا جائے گا۔

یہ خبر ایسے موقعے پر منظر عام پر آئی ہے جب چند روز بعد جمعرات کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل ترکی کا دورہ کرنے والی ہیں۔

دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار ہیں۔

جرمنی کو ترک حکومت کی جانب سے اپنے مخالفین کو دبانے پر تحفظات ہیں جبکہ ترکی برلن پر کرد ورکرز پارٹی پی کے کے کی حمایت کا الزام عائد کرتا ہے جسے وہ مسلح تنظیم قرار دیتا ہے۔

اسی بارے میں