کیوبیک مسجد حملہ: مشتبہ حملہ آور پر قتل کے الزامات عائد

حملہ آور تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption مشتبہ حملہ آور الیگزینڈر بیسونت لاول یونیورسٹی کے طالب علم ہیں

کینیڈا کی پولیس نے فرانسیسی کینیڈین طالب علم کو کیوبیک شہر کی مسجد پر حملہ کرنے اور شہریوں کو قتل کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔

الیگزینڈر بیسونیت نامی 27 سالہ نوجوان جو کہ ایک یونیورسٹی طالب علم ہیں پر نمازیوں کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا ہے اور اب انھیں عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

پورے کینیڈا میں مقتولین کی یاد میں شمعیں روشن کی جا رہی ہیں۔

ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ پانچ افراد اس وقت بھی زخمی حالت میں زیرِ علاج ہیں جبکہ 12 دیگر کو معمولی نوعیت کے زخم آئے تھے جنھیں طبی امداد دیے جانے کے بعد گھر بھجوا دیا گیا ہے۔

سی بی سی نیوز کے مطابق گرفتار طالب علم لاول یونیورسٹی جو کہ حملے کا شکار ہونے والی مسجد سے تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے میں پڑھتا تھا۔

مراکش سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محمد قدیر کو بھی حملے کے بعد اس وقت حراست میں لیا گیا جب ان کی جانب سے 911 کو کال کی گئی تھی تاہم بعد میں انھیں مشتبہ حملہ آور کے بجائے عینی شاہد قرار دیا گیا تھا۔

حکام کے مطابق دونوں افراد کی عمریں اندازاً 20 اور 30 سال کے درمیان ہیں۔

اتوار کو ہونے والے اس حملہ میں 50 سے زائد افراد پر فائرنگ کی گئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حکام کے مطابق دونوں افراد کی عمریں اندازاً 20 اور 30 سال کے درمیان ہیں

اس سے قبل کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹُروڈو نے حملے کو دہشت گردی قرار دے کر اس پر انتہائی غم و غصے کا اظہار کیا اور اس واقع کی شدید مذمت کی تھی۔

ایک بیان میں ان کا کہنا تھا کہ 'ہم اس مسجد میں ہونے والی دہشت گردی کے واقع کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ حکام اس دہشت گردی کی تفتیش کر رہے ہیں لیکن یہ بہت ہی افسوس ناک واقع ہوا ہے۔ مختلف مذاہب، زبان، نسل کے لوگوں کا مل جل کر رہنا ہی ہمارے ملک کی پہچان ہے اور ہم بحیثییت کینیڈین ان اقدار کو انتہائی اہم سمجھتے ہیں۔'

ریاست کیوبیک کے پریمیئر فیلیپ کؤیلارڈ نے بھی اس واقع کو دہشت گردی قرار دیا اور صوبے کے مسلمانوں کے ساتھ ہمدری اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

اسی بارے میں