میانمار: روہنگیا مسلمانوں کے خلاف جرائم کی تحقیقاتی رپورٹ کی اشاعت ملتوی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میانمار کی حکومت کی جانب سے قائم کیے جانے والا کمیشن رپورٹ پر مزید کام کرے گا

میانمار کی حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کی تفتیشی رپورٹ کی اشاعت ملتوی کر دی ہے۔

صدارتی ترجمان کے مطابق تحقیقاتی کمیشن کو رپورٹ مکمل کرنے کے لیے نئی معلومات کی روشنی میں مزید وقت دیا گیا ہے۔

* ’روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا کوئی ثبوت نہیں ملا‘

* روہنگیا مسلمانوں کا درد

واضح رہے کے اس ماہ کے آغاز میں کمیشن نے عبوری رپورٹ جاری کی تھی جس میں انھیں ریاست رخائن میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

اپنی عبوری رپورٹ میں کمیشن کہا تھا کہ بڑے پیمانے پر ریپ کے الزامات ثابت کرنے کے لیے ثبوت ناکافی تھے جبکہ اس رپورٹ میں کمیشن نے برما کی سکیورٹی افواج کی جانب سے لوگوں کو مارنے کے دعوؤں کا ذکر نہیں کیا تھا۔

میانمار میں بی بی سی کے نمائندے کا کہنا ہے کہ بہت ممکن ہے کہ رپورٹ کو ملتوی کرنے کی وجہ ملک کی رہنما آن سان سوچی کا رپورٹ دوبارہ لکھنے کا حکم ہو۔

توقع تھی کے کمیشن کی رپورٹ میں برما کی سکیورٹی افواج کو ریپ اور قتل کے تمام الزامات سے بری کر دیا جاتا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے ایک سابق جنرل کی قیادت میں بنائے جانے والے کمیشن پر تعصب کا الزام لگایا ہے۔

جنوری کے شروع میں شائع ہونے والی عبوری رپورٹ کے مطابق کمیشن نے نسلی کشی کے الزامات کو مسترد کر دیا تھا۔ کمیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کے پاس اس بات کے ’ناکافی ثبوت‘ ہیں کہ سکیورٹی فورسز نے کسی کو ریپ کیا ہو۔ کمیشن نے مزید کہا کہ وہ آتش زنی، گرفتاریوں اور تشدد کی ابھی تفتیش کر رہا ہے۔

اسی بارے میں