دولتِ اسلامیہ سے بچنے کے لیے برطانوی جنگجو کی خودکشی

جنگجو تصویر کے کاپی رائٹ Ryan Lock's family

بی بی سی کو کُرد ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ شام میں جاری لڑائی میں حصہ لینے والے ایک برطانوی شخص نے دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں گرفتار ہونے سے بچنے کے لیے خود کو گولی مارلی۔

20 سالہ رائن لاک کا تعلق مغربی سسیکس کے علاقے سے تھا اور انھوں نے رقہ میں دولتِ اسلامیہ کے ساتھ جنگ کے دوران 21 دسمبر کو اپنے آپ کو گولی ماری۔

رائن کرد فوج کے ہمراہ رضا کارانہ طور پر لڑ رہے تھے۔

کرد فورس نے بی بی سی کو بتایا کہ رائن کی ٹھوڑی کے نیچے موجود زخم سے علم ہوتا ہے کہ یہ خود کشی ہے۔

ذرائع کے مطابق جابار نامی گاؤں میں پانچ جنگجو دولتِ الامیہ کے گھیرے میں آ گئے تھے اور مرنے سے پہلے انھوں نے کافی مزاحمت کی۔

ان کی لاشیں ملنے پر پتا چلا کہ بظاہر برطانوی جنگجو نے دولتِ اسلامیہ کے ہاتھوں پکڑے جانے سے بچنے کے لیے خود کشی کر لی تھی۔

ایک رپورٹ کے مطابق گولی کا زخم بتا رہا ہے کہ بندوق ٹھوڑی کے ساتھ رکھ کر گولی چلائی گئی۔ جس سے نتیجہ اخد کیا جاتا ہے کہ جنگجو نے خود کشی کی تھی۔

انسانی حقوق کے کرد کارکن مارک چیپل کا بی بی سی ساؤتھ سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا ’شاید رائن کا دولتِ اسلامیہ کے ہاتھ لگنے کے بجائے خود کشی کرنا اچھا فیصلہ تھا۔ اس بہادری کو بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔‘

’میرا ذاتی خیال یہ ہے کہ وہ اپنی بہادری کے لیے اعلیٰ فوجی اعزاز کے مستحق ہیں۔‘

رائن لاک جو پیشے کے لحاظ سے ایک باورچی تھے اگست میں شام گئے جبکہ دوستوں اور خاندان کو بتایا کہ وہ چھٹیاں منانے ترکی جا رہے ہیں۔

منگل کو ان کی لاش عراق لائی گئی جہاں سے اسے برطانیہ منتقل کیا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں