ٹرمپ کا پابندی کو بحال کرنے کا عزم، جج پر کڑی تنقید

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا مقصد امریکہ کو محفوظ بنانا ہے اور وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرے گی

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندی کو معطل کرنے کے عدالتی فیصلے کے بعد اس پابندی کو بحال کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اس پابندی کو ریاست واشنگٹن کے ایک جج جیمز رابرٹ نے غیر آئینی قرار دیا تھا اور اپنے ایک عدالتی حکم کے ذریعے عارضی طور پرمعطل کر دیا تھا۔

٭سفری پابندی کا حکم معطل،’فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے‘

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں صدر ٹرمپ نے جمیز رابرٹ کو ’نام نہاد‘ جج قرار دیا اور کہا کہ ان کی ’مضحکہ خیز رائے‘ یقینی طور پر ملک کو قانون کے نفاذ سے دور لے جائے گی۔

اس فیصلے کے بعد بہت سی ائیرلائنز کا کہنا ہے کہ انھوں نے ان سات ملکوں سے مسافروں کو امریکہ لے جانے کے لیے پروازیں شروع کر دی ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس پابندی کا مقصد امریکہ کو محفوظ بنانا ہے اور وہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

سیئیٹل کے ڈسٹرکٹ جج جیمز رابرٹ نے حکومتی وکلا کے اس موقف کے خلاف فیصلہ دیا، جس میں کہا گیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدارتی حکم نامے کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔

صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت عراق، ایران، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، اور یمن سے امریکہ آنے والوں کے ویزے 90 روز تک معطل کر دیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اس کے علاوہ شام سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی امریکہ آمد پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کی گئی۔

گذشتہ ہفتے یہ حکم نامہ سامنے آنے کے بعد صدر ٹرمپ کے خلاف ملک بھر میں مظاہروں کا آغاز ہوا تھا۔ مختلف شہروں کے ہوائی اڈوں پر اس حکم نامے کے بعد بہت ابتر صورتحال دیکھنے کو ملی تھی۔

اب امریکی کسٹمز کے حکام نے امریکی فضائی کمپنیوں سے کہا ہے کہ جب تک معاملہ عدالت میں ہے وہ پابندی سے متاثرہ ممالک کے شہریوں کو امریکہ لا سکتے ہیں۔

تاہم ٹرمپ انتظامیہ اگر اس فیصلے کے خلاف ہنگامی حکمِ امتناعی حاصل کرنے میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ سلسلہ پھر رک سکتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ نے اس عدالتی فیصلے کو زیادتی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کا حکم قانونی اور مناسب ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق صدارتی حکم نامے کے اجرا کے بعد سے اب تک 60 ہزار ویزوں کو معطل کیا جا چکا ہے۔

صدر ٹرمپ کی جانب سے عائد کی جانے والی پابندی کے خلاف مقدمہ ابتدائی طور پر ریاست واشنگٹن نے درج کروایا جس کے بعد ریاست مینیسوٹا بھی اس میں شریک ہوگئی ہے۔

واشنگٹن کے اٹارنی جنرل باب فرگوسن نے اس پابندی کو غیر قانونی اور غیر آئینی قرار دیا، کیونکہ ان کے مطابق یہ پابندی لوگوں میں ان کے مذہب کی بنا پر فرق پیدا کر رہی ہے۔

واشنگٹن میں موجود بی بی سی کے ڈیوڈ ویلیس کے مطابق وفاقی جج کا یہ فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کے لیے ایک بڑا اور اہم چیلنج ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اصولی طور پر جن سات مسلم ممالک پر پابندی لگائی گئی تھی ان کے شہری اب امریکی ویزے کے لیے درخواستیں جمع کروا سکتے ہیں۔

تاہم انتظامیہ اس فیصلے کے خلاف اپیل کرنے کا حق رکھتی ہے۔

اسی بارے میں