جرمنی میں ناکام پناہ گزینوں کی ملک بدری میں تیزی کی کوشش

پناہ گزین تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پناہ گزینوں کی افغانستان واپسی کی مزاحمت کی گئی ہے

جرمن چانسلر انگیلا میرکل عنقریب ایسے اقدامات کا اعلان کرنے والی ہیں جن سے ناکام پناہ کی ملک بدری کا عمل تیز کیا جا سکے گا۔

ان اقدامات میں پناہ گزینوں کی شناخت کے لیے ان کے فون اور سِم تک رسائی اور رضاکارانہ طور پر واپس جانے والوں کو دی جانے والے رقم میں اضافہ شامل ہے۔

* آخر جرمنی میں ہو کیا رہا ہے؟

* جرمنی میں مشتبہ شامی شدت پسند کی جیل میں خودکشی

جرمنی میں اس برس ہونے والے انتخابات سے قبل تارکین وطن کا مسئلہ ایک اہم سیاسی موضوع بن چکا ہے۔

ایک پناہ گزیں نے دسمبر میں برلن کی کرسمِس مارکیٹ میں 12 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

انیس امری کے معاملے نے، جسے پناہ کی درخواست منظور نہ ہونے کے بعد تیونس نے واپس لینے سے انکار کر دیا تھا، میرکل حکومت پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔

جرمن چانسلر جلد ہی ملکی راہنماؤں سے ملاقات میں 16 نکات پر مشتمل ایک منصوبے پر بات چیت کریں گی جس کا مقصد ملک بدری کے عمل کو تیز کرنا ہے۔

جرمن میڈیا میں افشا ہونے والے منصوبے کے مطابق ملک بدری کے لیے ایک نیا رابطہ مرکز قائم کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ ایسے مراکز بھی قائم کیے جائیں گے جہاں مسترد پناہ گزینوں کو ملک بدری سے پہلے رکھا جائے گا۔

اس کے علاوہ حکومت اس برس ملک بدری اور سماجی انضمام پر 90 ملین یورو خرچ کرے گی جس کے تحت جلد اور رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے والے پناہ گزینوں کو زیادہ رقم دی جائے گی۔

سنہ 2015 میں تقریباً آٹھ لاکھ 90 ہزار پناہ گزیں جرمنی پہنچے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اینگلا میئرکل کو بڑی تعداد میں پناہ گزینوں کی آمد پر اندرونِ اور بیرونِ ملک تعریف اور تنقید کا سامنا رہا

اس وقت انگیلا میرکل کے ملکی سرحدوں کو کھلا رکھنے کے فیصلے سے، جبکہ دیگر یورپی ممالک نے پناہ گزینوں پر اپنے دروازے بند کر دیے تھے، ان کی مقبولیت کم ہوئی ہے اور تارکین وطن مخالف جماعت آلٹرنیٹِیو فار جرمنی یا اے ایف ڈی کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔

بعض جرمن ریاستوں کا موقف ہے کہ افغانوں کو اس بنیاد پر رہنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ ان کا اپنا ملک واپسی کے لیے محفوظ نہیں ہے۔

شامی پناہ گزینوں کے بعد افغان جرمنی پہنچنے والا بڑا نسلی گروہ ہے۔

گذشتہ برس تقریباً 25 ہزار پناہ گزینوں کو ملک بدر کیا گیا تھا جبکہ تقریباً 55 ہزار رضاکارانہ طور پر جرمنی چھوڑ گئے تھے۔

پناہ گزینوں کے لیے کام کرنے والے بعض رفاہی اداروں نے ان منصوبوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا ہے کہ عجلت میں غلط فیصلے کیے جا رہے ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس کے اواخر میں تقریباً دو لاکھ سات ہزار پناہ گزینوں کو ملک بدری کا سامنا تھا۔

اسی بارے میں