امریکہ: سفری پابندی کے صدارتی حکم کی معطلی کا فیصلہ برقرار

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دو امریکی ریاستوں کا کہنا تھا کہ یہ پابند غیرآئینی اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہے

امریکہ میں اپیل کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد پر پابندی کے صدارتی حکم کی معطلی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔

نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز کا کہنا ہے کہ وہ لوئرکورٹ کی جانب سے کیے گئے صدارتی حکم نامے کی معطلی کے فیصلے کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

’سفری پابندی بحال ہوئی تو پھر افراتفری پھیل جائے گی‘

امریکہ آخر کتنا بُرا ہے؟

سفری پابندی کا حکم معطل،’فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے‘

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کے تحت عراق، ایران، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن سے امریکہ آنے والوں کے ویزے 90 روز تک معطل کر دیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ شام سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی امریکہ آمد پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ انتظامی حکم نامہ جاری کیا گیا تھا کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ قومی سلامتی کو خطرہ ہے۔

تاہم عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ان ممالک سے دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں ثبوت ناکافی ہیں۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا ہے کہ اس کے بجائے کہ انتظامی حکم کی ضرورت سے متعلق ثبوت فراہم کیے جاتے حکومت نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ 'ہمیں اس فیصلے پر نظرثانی نہیں کرنی چاہیے۔'

اس عدالتی فیصلے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ردعمل کا اظہار ایک ٹویٹ کے ذریعے کیا ہے کہ 'آپ کو عدالت میں ملیں گے۔ قوم کی سلامتی داؤ پر ہے۔'

اس مقدمے میں وائٹ ہاؤس کی نمائندگی محکمہ انصاف نے کی تھی اور ان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ 'اس فیصلے کا جائزہ لے رہے ہیں اور اس سے متعلق غور کر رہے ہیں۔'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئہ کہا کہ ’آپ کو عدالت میں ملیں گے۔ قوم کی سلامتی داؤ پر ہے‘

اس انتظامی حکم نامے کے بعد امریکہ سمیت دنیا بھر میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور امریکی سرحدوں اور ہوائی اڈوں پر ایک افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی تھی۔

امریکی حکومت کی نمائندگی کرنے والے وکلا کا کہنا تھا کہ صدارتی اختیار کا استعمال کرتے ہوئے یہ پابندی ’قانونی‘ ہے۔

تاہم دو امریکی ریاستوں کا کہنا تھا کہ یہ پابند غیرآئینی اور مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک پر مبنی ہے۔

ممکنہ طور پر یہ مقدمہ اب امریکی عدالت عظمیٰ میں پیش کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ امریکی ریاست واشنگٹن کے ایک جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ آمد پر لگائی جانے والی پابندی کو ملک بھر میں عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔

ٹرمپ انتظامیہ کی اپیل کا مقصد اس فیصلے کو پلٹنا تھا جسے ریاست واشنگٹن کے ایک وفاقی جج نے صادر کیا تھا۔

تجزیہ

واشنگٹن میں ہمارے نامہ نگار برجیش اپادھیائے کا کہنا ہے کہ اقتدار سنبھالے ہوئے مشکل سے 20 دن ہوئے ہیں اور ہمیشہ جیت اور صرف جیت کی بات کرنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ بہت بڑی شکست سمجھی جا رہی ہے۔

انھوں نے اپنے روایتی انداز میں اس قانونی جنگ کو جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے اور پھر یہ بیان بھی دیا ہے کہ یہ معاملہ سیاسی تھا۔

لیکن دو ڈیموکریٹ رجحان رکھنے والے اور ایک رپبلكن رجحان رکھنے والے جج نے متفقہ طور پر یہ فیصلہ سنایا ہے اور اس وجہ سے ٹرمپ کی یہ دلیل لوگوں کے حلق میں مشکل سے اتر پائے گی۔

ساتھ ہی اگر وہ سپریم کورٹ جاتے ہیں جس کے پورے آثار ہیں تو وہاں بھی فی الحال آٹھ ججوں کا بینچ ہے جن میں چار رپبلیكن رجحان والے ہیں اور چار لبرل رجحان والے جج ہیں اور اگر وہاں فیصلہ چار چار کا ہوتا ہے تو پھر آج کا یہ فیصلہ برقرار رہے گا۔

امریکہ کے قانونی ماہرین کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ اگر ویزا قوانین میں سختی چاہتے ہیں تو اس کے لیے سب سے بہتر طریقہ ہو گا کہ اس پورے عمل کو دوبارہ شروع کریں اور کانگریس کی رضامندی کے ساتھ ایک بل لائیں جسے آئینی طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکے۔

لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے یہ ایک مشکل فیصلہ ہوگا۔ ان کی کوشش تو یہی ہوگی کہ کچھ ایسا ہو جسے وہ فوراً اپنی جیت کے طور پر پیش کر سکیں۔

اسی بارے میں