ٹرمپ ’ون چائنا‘ پالیسی کا احترام کرنے کے لیے تیار

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption امریکی صدر حالیہ دنوں میں فون پر عالمی رہنماؤں سے بات چیت کرتے رہے ہیں

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے بات چیت کے دوران 'ون چائنا' پالیسی کا احترام کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

امریکی صدر کے دفتر سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق دونوں رہنماؤں نے جمعرات کی شب ایک طویل فون کال کے دوران مختلف توجہ طلب مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔

ون چائنا پالیسی کے احترام کا مطلب امریکہ کی جانب سے سفارتی سطح پر یہ بات تسلیم کرنا ہے کہ صرف ایک ہی چینی حکومت وجود رکھتی ہے۔

بیان میں بات چيت کو 'انتہائی خوشگوار' بتایا گیا اور کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کو اپنے ملک کا دورہ کرنے کے لیے مدعو کیا ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ نے چینی صدر سے براہ راست رابطہ کرنے کی اپنی پہلی کوشش کے تحت ان کے نام ایک خط لکھا تھا۔

دسمبر کے مہینے میں ٹرمپ نے تائیوان کے صدر سے بات چیت کی تھی جس سے ایسا لگا تھا کہ شاید ٹرمپ امریکہ کی اس دیرینہ پالیسی میں تبدیلی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ٹرمپ سے قبل تمام امریکی صدور نے چین کی اس پالیسی سے اتفاق کیا ہے کہ تائیوان ایک آزاد ریاست نہیں ہے۔

ون چائنا پالیسی کے تحت امریکہ چین کے ساتھ رسمی تعلقات تسلیم کرتا ہے اور تائیوان کے ساتھ نہیں۔

چین کی نظر میں تائیوان بھی اسی کا ایک حصہ ہے جو اس سے الگ ہوگيا تھا اور ایک روز چین کے ساتھ اسے باقاعدہ متحد کیا جائے گا۔

انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ دانستہ طور پر چین کو نشانہ بناتے رہتے تھے اور اس پر تجارتی معاہدوں کی خلاف ورزی کرنے کا الزام عائد کرتے رہے تھے۔

انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ جنوبی بحیرۂ چین میں چینی فوج کی تیاریوں کو بھی چیلنج کریں گے۔

چین نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بڑی احتیاط سے اپنے ردعمل میں کہا تھا کہ امریکہ کے حق میں بہتر یہی ہے کہ وہ چین کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں