ٹرمپ کے حکم نامے کی معطلی پر دوبارہ غور کی تجویز

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption واشنگٹن کے ایک جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ آمد پر لگائی جانے والی پابندی کو ملک بھر میں عارضی طور پر معطل کر دیا تھا

امریکہ کی جس عدالت نے جمعرات کو صدر ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے کی معطلی کا فیصلہ برقرار رکھا تھا، اس کے ایک جج نے اپنے 25 ساتھی ججوں سے کہا ہے کہ وہ اس بات پر ووٹنگ کریں کہ آیا انھیں سفری پابندیوں کی معطلی کی مقدمے کی دوبارہ سماعت کرنی چاہیے یا نہیں۔

اس جج کا نام ظاہر نہیں کیا گیا۔

تکنیکی طور پر اس جائزے کو 'این بلاک ریویو' کہا جاتا ہے۔ اگر دوبارہ سماعت کے حق میں فیصلہ ہو جاتا ہے تو پھر ابتدائی پر فیصلہ دینے والے تین ججوں کے مقابلے پر اب 11 ججوں کا پینل سماعت کا حصہ بنیں گے۔

٭ سفری پابندی کے صدارتی حکم کی معطلی کا فیصلہ برقرار

٭ امریکی محکمۂ انصاف کا سفری پابندیوں کا دفاع

٭ امریکی ٹیکنالوجی کمپنیاں بھی سفری پابندی کی مخالف

جمعرات کو اپیل کورٹ نے کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ سفری پابندیوں کے جواز میں کسی قسم کے شواہد پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

تاہم حکم نامے کی معطلی کے بعد صدر ٹرمپ نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ 'اضافی سکیورٹی' کے اقدامات کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس میں 'کوئی شک نہیں' ہے کہ ان کی انتظامیہ سفری پابندی سے متعلق عدالتی جنگ میں کامیابی حاصل کرے گی۔

تاہم انھوں نے سرکاری طیارے ایئر فورس ون میں صحافیوں کو بتایا کہ وہ ’ایک نئے حکم‘ پر غور کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایک صدارتی حکم نامے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت عراق، ایران، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان اور یمن سے امریکہ آنے والوں کے ویزے 90 روز تک معطل کر دیے گئے تھے۔

اس کے علاوہ شام سے تعلق رکھنے والے پناہ گزینوں کی امریکہ آمد پر غیر معینہ مدت کے لیے پابندی عائد کی گئی تھی۔

تاہم امریکی ریاست واشنگٹن کے ایک جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکہ آمد پر لگائی جانے والی پابندی کو ملک بھر میں عارضی طور پر معطل کر دیا تھا۔

ٹرمپ اس مقدمے کو سپریم کورٹ میں لے جاسکتے ہیں تاہم امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ ترجیح نہیں ہے۔

جمعے کی سہ پہر فلوریڈا جاتے ہوئے صدر ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا: ’ہم یہ لڑائی جیت جائیں گے۔ بدقمستی سے اس میں وقت لگے لگا۔ ہم یہ لڑائی جیت جائیں گے۔ لیکن ہمارے پاس اور بھی بہت سے راستے ہیں، جس میں ایک بالکل نیا حکم جاری کرنا بھی شامل ہے۔‘

یہ واضح نہیں ہے کہ نیا حکم نامہ کیسا ہو گا۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس سے ’بہت کم‘ تبدیلی آئے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption صدر ٹرمپ نے آئندہ ہفتے امریکہ میں 'اضافی سکیورٹی' کے اقدامات کا وعدہ کیا ہے

واضح رہے کہ جمعرات کو ایک اپیل کورٹ نے سفری پابندی کے حکم نامے کی معطلی کے خلاف ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے دائر کے گئی اپیل کے فیصلے میں کہا تھا کہ ان ممالک پر پابندی کو توجیح کے طور پر انتظامیہ دہشت گردی کے خطرے کے بارے میں ’کوئی ثبوت‘ پیش کرنے میں ناکام رہی ہے۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ اس کے بجائے کہ انتظامی حکم کی ضرورت سے متعلق ثبوت فراہم کیے جاتے حکومت نے یہ موقف اختیار کیا کہ ’ہمیں اس فیصلے پر نظرثانی نہیں کرنی چاہیے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں